قرآنِ مجید میں قیامت کا ذکر نہایت تفصیل سے  اور بار بار کیا گیا ہے۔ یہ دن انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن دن ہے جسے یوم القیامہ، یوم الحساب، یوم الدین، یوم الفصل، یوم الجمع، الطامۃ الکبریٰ، الصاخۃ، القارعۃ وغیرہ جیسے مختلف ناموں سے بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے قیامت کے احوال کو ایسی مؤثر اور بلیغ انداز میں پیش کیا ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں خوفِ خدا اور انجام کی فکر بیدار ہو جاتی ہے۔ ذیل میں ہم قرآنِ حکیم کی روشنی میں قیامت کے مختلف احوال کا تذکرہ کرتے ہیں:

(1) قیامت اچانک برپا ہوگی:قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہو گی اور لوگ اس کے آنے سے بے خبر ہوں گے: یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً-یَسْــٴَـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاقُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷)

ترجمہ: کنزالایمان:تم سے قیامت کو پُوچھتے ہیں کہ وہ کب کوٹھہری ہے(کب آئے گی) تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے اُسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑرہی ہے آسمانوں اور زمین میں تم پر نہ آئے گی مگر اچانک تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اُسے خوب تحقیق کررکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں(پ9،الاعراف،187)

(2) کائنات کی تباہی: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔(پ30،الانفطار،1تا5)

(3) انسان کا قبر سے اٹھایا جانا:قیامت کے دن سب انسان اپنی قبروں سے زندہ کر کے میدانِ حشر میں جمع کیے جائیں گے:

یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ(۴۳) خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠(۴۴)

ترجمہ: کنزالعرفان:جس دن قبروں سے جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے گویا وہ نشانوں کی طرف لپک رہے ہیں ۔ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی، ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی، یہ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

(4) اعمال نامہ اور حساب:ہر شخص کے سامنے اس کا اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا: وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠(۴۹)

ترجمہ: کنزالایمان:اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نَوِشْتہ(تحریر) کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔(پ15،الکہف،49)

اللہ تبارک وتعالی ہمیں اپنی قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین