قیامت کا دن انسان کے لیے سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔ قرآن مجید میں بار بار اس دن کا ذکر کر کے انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ غفلت نہ کرے۔ دنیا کی رنگینیاں، مال و دولت اور طاقت سب مٹ جائیں گے، صرف اعمال باقی رہیں گے۔ اس دن کی تیاری کے بغیر زندگی گزارنا ایسے ہے جیسے کوئی مسافر بغیر زادِ راہ کے صحرا میں نکل پڑے۔

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ۔ (پ30،سورۃ عبس: 33)

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنزالایمان: جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے اور پہاڑ ہوں گے جیسے دھنکی (دھنی ہوئی)اون۔ (پ30، سورۃ القارعۃ: 4-5)

قیامت کے مناظر اور سبق:قیامت کی ہولناک چیخ انسان کے کان پھاڑ دے گی۔ لوگ بکھری ہوئی مکھیوں کی طرح

بھاگیں گے اور پہاڑ روئی کی طرح ہو جائیں گے۔ سبق یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت یا دولت پر غرور نہ کرے کیونکہ ایک آواز میں سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

قیامت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل حقیقت دنیا کی نہیں، بلکہ آخرت کی ہے۔ عقل مند وہی ہے جو دنیا کو عارضی اور آخرت کو دائمی سمجھ کر زندگی گزارے۔ ہمیں چاہیے کہ آج ہی سے نیک اعمال کی فکر کریں، گناہوں سے بچیں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں تاکہ اس دن کامیابی حاصل ہو ۔