محمد تیمور عطاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ذرا سوچیں جب رات کا سکوت جب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوگا
اور فلک کے چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگیں گے، تب کائنات کا پردہ ہٹے گا۔ زمین جس
پر ہم نے خواب بوئے، قبریں جن میں صدیوں سے انسان سو رہے ہیں، سمندر جن کی گہرائیوں
نے اسرار چھپا رکھے ہیں، سب ایک لرزہ خیز صدا پر ہل اٹھیں گے۔ وہ دن نہ کہ سورج کی
روشنی پہچانی جائے گی، نہ چاند کا جمال باقی رہے گا۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح
اڑتے دکھائی دیں گے، سمندر اپنی سرحدیں توڑ دیں گے اور آسمان ایسے چاک ہوگا جیسے
پرانا پردہ پھٹ جائے۔
انسان
اُس دن پہلی بار سمجھے گا کہ دنیا کی حقیقت کیا تھی اور انجام کس قدر قریب تھا۔
زبانیں بند ہوں گی، اعضا گواہی دیں گے، اور ہر آنکھ اپنے سامنے اپنے اعمال کا کھلا
ہوا دفتر دیکھے گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب وقت اپنی آخری کروٹ بدلے گا اور ابدیت کا
دروازہ کھلے گا۔
(1)
دل دہلانے والی: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا
الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) ترجمۂ کنز الایمان دل دہلانے والی۔کیا وہ
دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی۔
اَلْقَارِعَةُ: وہ
دل دہلادینے والی: قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام اس
لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل جائیں
گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
آواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارِعہ ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ جب وہ صُور میں پھونک ماریں
گے تو ان کی پھونک کی آواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن، القارعۃ، تحت
الآیۃ:1، 4 / 403)
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا
الْقَارِعَةُ: اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے}
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت کا معنی یہ
ہے کہ اے حبیب! ﷺ ،آپ قیامت کی ہَولْناکی،
شدت اور دہشت کو ہماری طرف سے آنے والی وحی کے ذریعے ہی جان سکتے ہیں ۔تو یہاں وحی
کے بغیر قیامت کی ہَولْناکی کے علم کی نفی ہے(نہ کہ مُطلَق علم کی نفی ہے)۔( سورۃ
القارعہ آیت نمبر ، 1، 2، 3، )
(
2 )پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے گے : وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایماناور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی
اون ۔
وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی
اون کی طرح ہوجائیں گے: یعنی دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے
بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں
اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں
تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!(سورۃ القارعہ آیت نمبر 4 )
(
3 ) آسمان پھٹ جائے گے : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ (۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ:
جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور
جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے
گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے
اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے
زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا
برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس
سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( سورۃ الانفطار آیت
نمبر ،1، 2، 3، 4، 5، )
(
4 ) قیامت کا زلزلہ: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ
اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ
تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ
حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ
عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک
قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ
پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن
ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(
سورۃ الحج آیت نمبر 1، 2 ،)
(
5 ) زمین تھرتھرا دی جائے گی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ
الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) ترجمۂ کنز الایمانجب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔،، اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے
کیا ہوا ۔( سورۃ الزلازل آیت نمبر 1، 2 ، 3،)
اے
پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کا دن کوئی کہانی نہیں، یہ یقینی حقیقت ہے۔ اُس دن نہ
مال کام آئے گا نہ اولاد، صرف ایمان اور نیک اعمال ساتھ ہوں گے۔ زمین، آسمان،
پہاڑ، سمندر سب ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور انسان اپنے ہر عمل کے بدلے کو اپنی آنکھوں
سے دیکھ لے گا۔ پس عقل مند وہی ہے جو آج ہی اپنا حساب کرلے، اس سے پہلے کہ کل اپنے
اعمال کا دفتر دیکھ کر پشیمان ہو !
انس احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد کورنگی کراچی ،
پاکستان)
دنیا
کی زندگی عارضی اور فانی ہے، مگر اس کے بعد ایک ابدی اور حقیقی زندگی ہمارا انتظار
کر رہی ہے، جس کا آغاز قیامت سے ہوگا۔ قیامت کا دن، وہ عظیم دن ہے جسے قرآن مجید
نےیوم الحساب، یوم الفصل، یوم الوعید جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ یہ دن صرف ایک
معمولی دن نہیں بلکہ پوری کائنات کے نظام کو الٹ دینے والا دن ہوگا۔ پہاڑ ریزہ ریزہ
ہو جائیں گے، سمندر اُبل پڑیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا، زمین اپنی خبریں اُگل
دے گی اور انسان بدحواس ہو کر دوڑتا پھرے گا، کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔
یہ
وہ دن ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد بار کیا تاکہ انسان غفلت سے بیدار
ہو، اور اپنے انجام کو یاد رکھ کر اپنی زندگی کو سنوارے۔ قیامت کے احوال انسان کو
جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ ذیل میں احوالِ قیامت کے متعلق چند آیات پیش کی
جارہی ہیں:
1:
روز قیامت زمین پر زلزلہ: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ
کنز العرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔(پ30،الزلزال،1)
ارشاد
فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت
،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ
پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت
کے دن زمین تھر تھرائے گی۔( تفسیر صراط الجنان، جلد 10 ،
تحت الایۃ الزلزال 1)
2:
یوم قیامت زمین کا اپنا بوجھ نکال دینا: وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ
کنز العرفان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔( پارہ 30 ، سورۃالزلزال ، آیت
نمبر 2)
3
: روز قیامت لوگوں کی مختلف حالتیں: یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا
اَعْمَالَهُمْؕ(۶) ترجمہ کنز العرفان:اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے
تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔ ( پارہ 30 ، سورۃالزلزال ، آیت نمبر 6)
اس
آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ حساب کی جگہ پر پیش ہونے کے بعد وہاں
سے کئی راہیں ہو کر لوٹیں گے، کوئی دائیں طرف سے ہو کر جنت کی طرف جائے گا اور کوئی
بائیں جانب سے ہو کر دوزخ کی طرف جائے گا تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزاء دکھائی
جائے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جس دن وہ اُمور واقع ہوں گے جن کا ذکر کیا گیا تو ا س
دن لوگ اپنی قبروں سے حساب کی جگہ کی طرف مختلف حالتوں میں لوٹیں گے کہ کسی کا
چہرہ سفید ہو گا اور کسی کا چہرہ سیاہ ہو گا،کوئی سوار ہو گا اور کوئی زنجیروں اور
بیڑیوں میں جکڑا ہوا پیدل ہو گا،کوئی امن کی حالت میں ہو گا اور کوئی خوفزدہ ہو گا
تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔( تفسیر صراط الجنان ، جلد 10 ، تحت الایۃ
الزلزال 6).
4:
نیک و بد اعمال کا بروز قیامت دکھایا جانا: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)
وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ترجمہ
کنز العرفان:توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی
کرے وہ اسے دیکھے گا۔ ( پارہ 30 ، سورۃالزلزال ، آیت نمبر 7،8)
حضرت
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مَا فرماتے
ہیں کہ ہر مومن اور کافر کو قیامت کے دن اس کے نیک اوربرے اعمال دکھائے جائیں گے،
مومن کو اس کی نیکیاں اور برائیاں دکھا کر اللہ تعالیٰ برائیاں بخش دے گا اور
نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اورکافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ وہ کفر کی
وجہ سے ضائع ہوچکیں اور برائیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔
حضرت
محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی
تووہ اس کی جزا دنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے
پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی برائیوں کی سزا دنیا میں پائے گا تو آخرت میں
اس کے ساتھ کوئی برائی نہ ہوگی۔( تفسیر صراط الجنان ، جلد 10 ، تحت الایۃ الزلزال
7،8).
آخر
میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور
ہمیں اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
فیضان علی (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے قرآن پاک میں قیامت کے احوال کو
تفصیل سے ذکر فرمایا ہے کہ اس دن باپ اپنے بیٹے کی نہیں سنے گا قیامت کے دن کوئی
کسی کی مدد نہیں کرے گا قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اس دن نفسی نفسی کا عالم ہوگا
چند آیات مبارکہ قیامت کے احوال کے بارے میں سنتے ہیں .
(1)
دل بہلادینے والا منظر : اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا
الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ
تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنز العرفان: وہ دل دہلادینے
والی۔وہ دل دہلادینے والی کیاہےاور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہےجس
دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی
طرح ہوجائیں گے۔(حوالہ سورۃ القارعہ آیت نمبر 1/2/3/4/5 پارہ نمبر 30)
(2)جب
زمین تھر تھرا دی جائے گی : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ
الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ:
کنز العرفان :جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔(حوالہ پارہ نمبر 30 سورۃ الزلزال آیت نمبر 1/2 )
(3)جب
آسمان پھٹ جائے گا : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱)
وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ
اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ
اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ
کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے
جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا
اور جو پیچھے چھوڑا۔ (حوالہ پارہ نمبر 30 سورۃ الانفطار آیت نمبر 1/2/3/4/5)
(4)جب
سورج کو لپیٹ دیا جائے گا : اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمہ کنز العرفان:جب سورج کو
لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔(حوالہ پارہ نمبر 30 سورۃ الشمس آیت نمبر 1/2)
(
5)صور پھونکنا : فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ
نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا
دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱۵) ترجمہ: کنزالعرفان:پھرجب صور میں
(پہلی مرتبہ) ایک پھونک ماری جائے گی۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا
چوراکردئیے جائیں گے۔تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔(حوالہ پارہ نمبر
(29) سورۃ الحاقہ آیت نمبر 13/14/15)
طلحہ حسن ( درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قیامت
کا دن ایسا ہولناک ہوگا جس سے اللہ کی پسندیدہ ہستیاں بھی اس کے خوف سے پناہ مانگتی
ہیں، اور یہ خوف کیوں نہ ہو کیونکہ اس دن کی کیفیت خود اللہ پاک نے بیان فرمائی ۔
احوال
قیامت :
(1) دنیا میں جس طرح دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے
قیامت کا دن ایسا نہیں ہوگا بلکہ قیامت کا دن گھنٹوں ، دنوں یا مہینوں کے برابر نہیں بلکہ پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا
۔جیسا کہ سورۃ المعارج کی آیات :(4-3) میں اللّہ پاک نے ارشاد فرمایا:
(2)
قیامت کے دن کی دہشت اتنی ہوگی کہ جب ہر طرف لوگ بھاگ رہے ہونگے کہ کہیں کوئی شفیع
مل جائے یا کوئی اپنی ایک نیکی ہی دے دے لیکن وہ قیامت کا منظر اتنا ہولناک ہوگا
کہ ہر کسی کو اپنی فکر ہوگی۔
جیسا کہ سورۃ العبس کی آیات:(37-33) میں اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا:
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴)
وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ
مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ
کنز العرفان:"پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی
سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے
ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی"۔
(3)ایسا
دل دہلا دینے کا والا منظر کیوں نہ ہو کہ جب زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور رب کا حکم
آئے اور فرشتے قطار در قطار آئیں اور جب دل دہلا دینے والی اور روحوں کو خوف میں
مبتلا کرنی والی دوزخ لائی جائے اور پھر سوچنے کا بھی وقت نہ ہو تو واقعی وہ
ہولناک منظر ہوگا جیسا کہ سورۃ الفجر کی آیات : (24-21) میں اللہ پاک نے ارشاد
فرمایا:
كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ(۲۱) وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ
الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ(۲۲) وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ
الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ
لِحَیَاتِیْۚ(۲۴)
ترجمہ کنز العرفان"ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر
ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔اور تمہارے رب کا حکم آئے گااور فرشتے قطاردر قطار (آئیں
گے)۔اور اس دن جہنم لائی جائے گی ،اس دن آدمی سوچے گا اور اب اس کے لئے سوچنے کا
وقت کہاں وہ کہے گا : اے کاش کہ میں نے اپنی زندگی میں (کوئی نیکی) آگے بھیجی ہوتی"۔
ان
آیات سے معلوم ہوا کہ قیامت کا دن بہت خوفناک اور ہولناک ہوگا ۔ اللہ پاک ہمیں بغیر حساب کے اپنی رحمت و فضل سے جنت کے داخلہ عطا فرمائے آمین ۔
ماجد علی ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ،
پاکستان)
قرآنِ
کریم میں قیامت کے دن کے مختلف ہولناک مناظر کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، جو انسان
کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ یہاں چند اہم آیات کے خلاصے پیش کیے جاتے ہیں:
(1)
زمین کا زلزلہ اور بکھر جانا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) " جب زمین تھرتھرادی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور اپنے بوجھ باہر نکال
دے گی۔" (سورۃ الزلزال: 1-2)
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا:
جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ارشاد فرمایا کہ جب زمین
اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی
پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ
تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔
(خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱،
۴ / ۴۰۰)
قیامت کا زلزلہ کتنا ہَولْناک ہے اس کے بارے میں
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا
رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا
تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ
حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ
اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک
قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ
پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میںنہیں ہوں گے لیکن ہے
یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(2)
آسمان کا پھٹ جانا: اِذَا السَّمَآءُ
انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے
جھڑ پڑیں۔(سورۃ الانفطار: 1-2)
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ:
جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور
جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے
گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے
اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے
زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا
برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس
سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان،
الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)
اوریہ جاننا اعمال نامے پڑھنے کے ذریعے ہو گا جیسا
کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ-وَ
نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ
كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اورہم اس کیلئے
قیامت کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ (فرمایا جائے گا
کہ) اپنا نامہ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔(بنی
اسرائیل:۱۳،۱۴)
(3)
پہاڑوں کا روئی کی طرح اُڑنا: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) "اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگین
اون۔" (سورۃ القارعہ: 5)
وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی
اون کی طرح ہوجائیں گے: یعنی دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے
بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں
اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں
تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۴۰۳،
روح البیان، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۵،
۱۰ / ۵۰۰،
ملتقطاً)
(4)
ماں اپنے بچے کو بھول جائے گی: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے
دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔(سورۃ
الحج،2)
تفسیر صراط الجنانیَوْمَ تَرَوْنَهَا:جس دن
تم اسے دیکھو گے: ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ
حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی
اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے
خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔( خازن،
الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۲۹۸)
زین العابدین (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قیامت
کا دن اسلام میں ایک بنیادی عقیدہ ہے، جسے یوم الآخِر، یومُ الدِّین یا یومُ
الحِساب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب:
1. اللہ
تعالیٰ سب مردوں کو زندہ کرے گا۔
2. ہر
انسان کے اعمال کا حساب ہوگا۔
3. نیک
لوگ جنت میں جائیں گے اور برے لوگ جہنم میں۔
قیامت
کے بارے میں قرآن مجید میں کئی مقامات پر تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ یہاں چند اہم آیات
بطور مثال پیش کی جاتی ہیں:
2:
قیامت کے دن زمین تھرتھراےگی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ
کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ۔(پ30،الزلزال،1)
ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ
تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے
گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس
وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن،
الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱)
3:قیامت کی سختی سے دل دہل جائیں گے: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) ترجمۂ
کنز الایمان :دل دہلانے والی۔ (پ30،القارعہ،1)
اَلْقَارِعَةُ:
وہ دل دہلادینے والی: قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام
اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل
جائیں گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کی آواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارِعہ ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ جب وہ صُور میں پھونک
ماریں گے تو ان کی پھونک کی آواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن، القارعۃ،
تحت الآیۃ:۱، ۴ / ۴۰۳)
4:تقوی
اور خوف خداوندی پر ابھارنے والی چیز یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ
السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو
اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔ (پ17،الحج،1)
قیامت
کی ہَولناکیاں ،اس کا حساب وکتاب اور اس کے اَحوال پیش ِنظر ہوں گے توکوئی بھی
انسان کسی دوسرے کی حق تَلفی ،ظلم وستم ، اور کسی قسم کی بھی زیادتی نہیں کرے گا۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں
مشغول ہو جاؤ، بیشک قیامت کا زلزلہ جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت کے قریب
سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے نزدیک واقع ہو گابہت بڑی چیز ہے۔( خازن، الحج، تحت
الآیۃ: ۱، ۳ / ۲۹۸، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۳۰،
ملتقطاً)
حافظ محمد عمر نقشبندی ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
قرآنِ
مجید قیامت کے دن کو ایک عظیم اور یقینی حقیقت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ قیامت وہ
دن ہے جب تمام انسان اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے۔ یہ
دن ایسا ہولناک اور فیصلہ کن ہوگا کہ زمین و آسمان کی کایا پلٹ دی جائے گی، پہاڑ ریزہ
ریزہ ہو جائیں گے اور ہر جان اپنے انجام کو پہنچے گی۔ قرآن نے مختلف مقامات پر قیامت
کے مناظر نہایت واضح انداز میں ذکر کیے ہیں تاکہ انسان دنیا میں غفلت چھوڑ کر اللہ
کی اطاعت اختیار کرے۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ
اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ
کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔ اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے۔ (پ30، الزلزال:2, 1)
قیامت
کے دن ایسا زلزلہ آئے گا جس سے زمین اپنے تمام راز اور مردوں کو باہر نکال دے گی
تاکہ ان کا حساب ہو سکے۔
یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ
الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان:جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے۔ اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون
۔(پ30، القارعۃ :4,5 )
انسان
خوف کے باعث بے قابو ہو کر ادھر ادھر بھاگیں گے اور مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر
ہوا میں اڑ جائیں گے۔
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ
الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) ترجمہ
کنز الایمان: پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک دم۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً
چورا کردئیے جائیں۔ (پ29، الحاقہ:13,14)
وضاحت: صور کا پھونکا جانا قیامت کے آغاز کی
علامت ہے، جس کے ساتھ ہی کائنات کا پورا نظام ختم جائے گا۔
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲)
ترجمہ
کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ
ہے۔(پ30، الانشقاق1,2)
وضاحت:
قیامت کے روز آسمان پھٹ جائے گا اور اللہ کے حکم کے آگے ہر شے سرِ تسلیم خم کر دے گی۔
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا
الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳)
ترجمہ کنز الایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب
تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ (پ30، التکویر3-1)
وضاحت:
کائنات کے بڑے بڑے اجرامِ فلکی اپنی روشنی کھو دیں گے، نظامِ فلک درہم برہم ہو
جائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیے جائیں گے۔
قرآنِ
حکیم قیامت کے دن کو نہ صرف ایک یقیناً پیش آنے والا واقعہ قرار دیتا ہے بلکہ اس
کے ہولناک مناظر بھی بیان کرتا ہے تاکہ انسان عبرت حاصل کرے۔ اس دن زمین و آسمان کی
ہر چیز بدل جائے گی اور ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ یہ آیات ہمیں تنبیہ کرتی
ہیں کہ ہم دنیاوی غفلت کو چھوڑ کر نیک اعمال کریں اور اللہ کی اطاعت اختیار کریں
تاکہ اس دن کی سختیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
اللہ
پاک نے اپنے پاک کلام میں اپنی مخلوق کے لیے خوف و عبرت حاصل کرنے کے لیے بےشمار
واقعات اور نصیحتیں فرمائی ہیں تاکہ اس کے بندے دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر اس
دن کو بھول نہ بیٹھیں کہ جس دن سورج سوا میل کی دوری پر ہو گا،زمین تانبے کی ہوگی،پہاڑ
روئی کی طرح اڑیں گے اور ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا،اس دن ماں بیٹے سے اور بیٹا
ماں سے دور بھاگے۔ ہاں وہ قیامت کا دن ہی
ہے۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں لاتعداد مرتبہ قیامت کے احوال اور اس کی ہولناکیوں
کو بیان کیا ہے تاکہ اس کے بندے ان ہولناکیوں سے عبرت حاصل کریں اور راہ راست پر
چلیں۔چناچہ اس مضمون میں ہم ان آیاتِ کریمہ کا مطالعہ کریں گے جن میں رب قہار نے قیامت
کے سخت احوال کا ذکر کیا ہے۔پڑھیئے اور عبرت حاصل کیجئے:
(1)
آسمان کھول دیا جائے گا: وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ
فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز العرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا
تو وہ دروازے بن جائے گا۔اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک
چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔(پ30،النبا،آیت نمبر 19۔20)
(2)
روز قیامت انسانوں کا حال: اللہ رب ذوالجلال قیامت کے دن
انسانوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمۂ کنز العرفان: دل اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ان
کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ (پ30،النازعات،آیت نمبر 8۔9)
(3)
جس دن سورج کو لپیٹ دیا جائے گا: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲)
وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ (۴)
ترجمہ کنز العرفان: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب
پہاڑ چلائے جائیں گے۔اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں گی۔ (پ30، التکویر،
آیت نمبر 1۔4)
(4)
روز محشر اعمال کا حساب: وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ-وَ
نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ
كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے
اس کے گلے میں لگادی ہے اور ہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامۂ اعمال نکالیں گے
جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔( فرمایا جائے گا کہ) اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے
متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔(پ15،بنی اسرائیل،آیت نمبر:13ـ 14)
(5)
نفسی نفسی کا عالم: یَوْمَ
تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ
حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ
عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ
حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن
ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔(پ17،الحج،آیت نمبر: 2)
معلوم
ہو اکہ قیامت کا دن اس قدر سخت ہو گا کہ اس دن کوئی کسی کا نہ ہو گا۔ہمیں چاہیے کہ
ہم۔ان آیات سے عبرت حاصل کریں اور اپنے آپ کو نیکیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کریں
تاکہ روز محشر کی سختی سے نجات پا سکیں۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
قیامت
کا معنی۔ قیامت
کے لفظی معنی "کھڑا ہونا" یا "قیام کرنا" ہیں، جبکہ شرعی معنی "وہ دن جب لوگ قبروں سے اٹھ کر حساب کتاب
کے لیے جمع ہوں گے"
ہے۔
قرآن
کے مطابق قیامت کا دن وہ خوفناک لمحہ ہے جب تمام
لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر میدان حشر میں جمع ہوں
گے، اور وہاں سخت پیاس اور گھبراہٹ ہوگی، پھر سب
لوگ اپنے اعمال کا حساب دینے کے بعد جنت یا جہنم
میں داخل ہوں گے. قیامت کا ایک دن پچاس ہزار سال کے
برابر ہوگا۔ قرآن پاک میں قیامت کے دن کا تذکرہ متعدد
مقامات پر کیا گیا ہے ۔ سورۃ واقعہ میں ارشاد ہوتا ہے۔
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱) لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا
كَاذِبَةٌۘ(۲) ترجمہ:
کنزالعرفان۔ جب واقع ہونے والی واقع
ہوگی۔۔ (اس وقت )اس کے واقع ہونے میں
کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔(پ27، سورۃ واقعہ
آیت 1،2)
اس
آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت
قائم ہو گی جو کہ ضرور قائم ہونے والی ہے تواس وقت ہر
ایک اس کا اعتراف کر لے گااور اس کے واقع ہونے کا کوئی
انکار نہیں کر سکے گا۔ اورقیامت چونکہ بہر صورت واقع
ہو گی ا س لئے ا س کا نام واقعہ رکھا گیا ہے۔ ( مدارک، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۱-۲، ص ۱۱۹۸، تفسیرکبیر، الواقعۃ، تحت۔ الآیۃ: ۱-۲،
۱۰ / ۳۸۴، بیضاوی،
الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۱-۲، ۵ / ۲۸۳، ملتقطاً)
ایک
اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴)
وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶) ترجمہ:
کنزالایمان:جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر اور, پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکرتو ہوجائیں گے جیسے روزن(سوراخ) کی دھوپ
میں غبار کے باریک ذرّے پھیلے ہوئے۔ (سورۃواقعہ آیت
4،5،6 )
جب
زمین تھرتھرا کرکانپے گی: اس آیت اور ا س
کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ
ہے کہ جب (قیامت قائم ہو گی تو اس
وقت) زمین تھرتھرا کرکانپے گی جس سے اس کے اوپر موجود
پہاڑ اور تمام عمارتیں گر جائیں گی اور یہ اپنے اندر موجود
تمام چیزیں باہر آجانے تک کانپتی رہے گی اور پہاڑ چُورا
ہوکر خشک ستوکی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اوروہ اس
وجہ سے ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں
گے۔( روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۴-۶،
۹ / ۳۱۶-۳۱۷)
اللہ عَزَّ وَجَلّ َسے دعاہے کہ وہ ہمیں
روزِ محشر اپنے۔ پیارے حبیب ﷺ کی شفاعت سے نصیب
فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
عبدالرحمن عطّاری مدنی ( تخصص فی اللغۃ العربیۃ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،
پاکستان)
ایمانِ بالآخرة اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ قرآنِ کریم نے
جہاں توحید اور رسالت کو بیان فرمایا، وہاں آخرت کے دن کا بار بار ذکر بھی کیا
تاکہ انسان دنیا کی فانی زندگی میں غفلت کا شکار نہ ہو۔ قیامت کا تصور محض خوف
پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسان کے اعمال کو سنوارنے اور ذمہ داری کا احساس
دلانے کے لیے ہے۔ قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر قیامت کے ہولناک مناظر اور اس دن کے
احوال بیان کیے گئے ہیں، تاکہ مومن توبہ اور نیک اعمال کی طرف مائل ہوں اور غفلت
سے بچیں۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے ساتھ دیکھتے ہیں:
قیامت
کی حقیقت اور اہمیت:ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ
لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۵۹) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن
بہت لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (پ24،سورۃالغافر(المؤمن):59)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قیامت کا دن اٹل حقیقت ہے، چاہے انسان
اس کا انکار کرے یا بھول جائے۔ ایمان بالآخرة ہی وہ یقین ہے جو انسان کو جواب دہی
اور احتساب کا شعور دیتا ہے۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: کہ ارشاد فرمایا کہ بیشک قیامت
ضرور آنے والی ہے اور اس کے شواہد اتنے واضح ہیں جن کی وجہ سے قیامت
آنے میں کچھ شک نہیں رہتا لیکن اکثر لوگ (دلائل میں غور
وفکر نہ کرنے کی وجہ سے) اس پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی اس کی تصدیق
کرتے ہیں ۔ ( روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۵۹، ۸ / ۱۹۹-۲۰۰، مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۵۹، ص۱۰۶۳، ملتقطاً)
قیامت
کے ہولناک مناظر:قرآن میں قیامت کے دن کے حالات بڑے مؤثر انداز میں بیان
کیے گئے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
زمین
و آسمان کا حال: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) ترجمہ کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ
پڑیں گے۔(سورۃ الانفطار:1،2)
پہاڑوں
اور زمین کی کیفیت: وَّ
سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنزالعرفان:اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے
ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔(سورۃ النباء:20)
انسانوں
کا حال: فَاِذَا جَآءَتِ
الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ کنزالعرفان:پھر جب
وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں
اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی
فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(سورۃ
عبس:33 تا 37)
یہ
مناظر ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ دنیا کے رشتے، مال اور عہدے سب بے کار ہوں گے اور صرف
اعمال ہی باقی رہیں گے۔
توبہ
اور نیک اعمال کی ترغیب:قیامت کا ذکر دراصل ایک نصیحت ہے کہ انسان آج ہی لوٹ آئے،
ورنہ کل کی پکڑ سخت ہوگی۔
سدھیر احمد عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃالمدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قیامت
کا دن بے حد سخت دن ہوگا قیامت کا دن بہت حیرت انگیز ہو گا قیامت کی ہولناکیوں سے
انسان انتہائی خوف زدہ ہوگا حتی کہ وہ اپنے ہی پسینے میں ڈوب رہا ہوگا الا
ماشاءاللہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال ترازو پر تولے جائیں گے اور جس کا اعمال
نامہ اچھا ہوگا وہ جنت میں داخل ہو گا جس کا اعمال نامہ اچھا نہیں ہوگا وہ جہنم میں
داخل ھو جائے
گا
قیامت کے دن زمین پر زلزلے برپا ہونگے ، ستارے ٹوٹ جائیں گے اور قیامت کے دن آسمان
پھٹ جائے گا ۔
سورۃ الانشقاق میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اِذَا السَّمَآءُ
انْشَقَّتْۙ(۱) ترجمۂ
کنزالایمان: جب آسمان شق ہو۔ (پ30،انشقاق،1)
سورۃ عبس میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا: فَاِذَا جَآءَتِ
الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے
والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو اور بیٹوں
سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے۔(پ30،عبس 33تا 37)
سورۃ النازعات کی آیت نمبر 6 اور 7 میں اللہ
تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے : یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ(۶) تَتْبَعُهَا
الرَّادِفَةُؕ(۷) ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تھر تھرائے گی
تھرتھرانے والی ۔ اُس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔
یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ:
جس دن تھرتھرانے والی تھر تھرائے گی: اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ
ہے کہ اے کافرو! تم اس دن ضرور زندہ کئے جاؤ گے جس دن (ایک سینگ میں ) پہلی پھونک
ماری جائے گی تو ا س دن کی ہولناکی کی وجہ سے زمین اور پہاڑ شدید حرکت کرنے لگیں
گے اور انتہائی سخت زلزلہ آ جائے گا اور تمام مخلوق مرجائے گی، پھر ا س پہلی
پھونک کے بعد دوسری پھونک ماری جائے گی جس سے ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کردی جائے گی۔ ان دونوں پھونکوں کے درمیان چالیس سال
کا فاصلہ ہوگاقیامت کے دن زمین کا راز ظاہر ہونا
سورۃ الزلزال میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین
تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ (پ30،الزلزال،1)
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے
ہے: ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر
کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر
چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا
قیامت کے دن زمین تھر تھرآئے گی ۔
اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اس دن حضور تاجدار کائنات ﷺ کی شفاعت نصیب
فرمائے اور اور کامیاب ہو جائیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کی فانی زندگی میں رہتے
ہوئے آخرت کی دائمی زندگی کی فکر کریں، توبہ و استغفار کو اپنا شعار بنائیں، اور
اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔
عبد الخالق بلوچ عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قیامت
کے بارے میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ قیامت ضرور قائم ہونے والی ہے اور
قیامت کے دن اللہ پاک کے حضور حاضر ہوکر حساب وکتاب بھی دینا ہے ۔اللہ پاک نے قرآن
مجید میں ارشاد فرمایا : اِذَا وَقَعَتِ
الْوَاقِعَةُۙ(۱) ترجمہ
کنز العرفان :جب واقع ہونے والی واقع ہوگی۔(الواقعہ:1)
اس
آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی جو کہ ضرور
قائم ہونے والی ہے تواس وقت ہر ایک اس کا اعتراف کر لے گااور اس کے واقع ہونے کا
کوئی انکار نہیں کر سکے گا۔ اور قیامت چونکہ بہر صورت واقع ہو گی ا س لئے ا س کا
نام واقعہ رکھا گیا ہے ۔
اس
دنیا میں کوئی اگر قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس وقت ہرایک اعتراف کرے گا اس
حوالے سے فرمایا کہ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ(۲) ترجمہ
کنز العرفان :(اس وقت )اس کے واقع ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔(سورۃ
الواقعہ : آیت نمبر 2)
اور
قیامت کے احوال بہت سخت ہیں اور وہ دن لوگوں کے لیے بہت سخت ترین دن ہوگا ۔ اللہ
پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا
الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)ترجمہ
کنز العرفان :دل دہلادینے والی۔وہ دل دہلادینے والی کیاہےاور تجھے کیا معلوم کہ وہ
دل دہلادینے والی کیاہے۔ جس دن آدمی پھیلے
ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔(سورۃ:القارعہ:آیت 1تا4)
لہذا
قیامت سخت ترین پریشانیوں اور مشکل ترین دن ہوگا اور اس دن ہر ایک دوسرے سے بیزار
ہوگا اور ہر ایک اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا ۔
اللہ
پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ کنز العرفان :اس
دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے
بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا
کردے گی۔
حضرت
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن تم ننگے پاؤں
، ننگے بدن اور بے ختنہ شدہ اٹھائے جاؤ گے۔ایک صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! ﷺ ، کیا لوگ ایک
دوسرے کے ستر کو بھی دیکھیں گےارشاد فرمایا: ’’اے فلاں عورت!
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکرپڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے)
بے پروا کردے گی۔
اللہ
پاک ہم کو قیامت کے دن کی تیاری کرنے اور حساب وکتاب دینے کے لیے آپنے دلوں میں
احساس پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔
Dawateislami