ایمانِ بالآخرة اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ قرآنِ کریم نے جہاں توحید اور رسالت کو بیان فرمایا، وہاں آخرت کے دن کا بار بار ذکر بھی کیا تاکہ انسان دنیا کی فانی زندگی میں غفلت کا شکار نہ ہو۔ قیامت کا تصور محض خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسان کے اعمال کو سنوارنے اور ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر قیامت کے ہولناک مناظر اور اس دن کے احوال بیان کیے گئے ہیں، تاکہ مومن توبہ اور نیک اعمال کی طرف مائل ہوں اور غفلت سے بچیں۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر وضاحت کے ساتھ دیکھتے ہیں:

قیامت کی حقیقت اور اہمیت:ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۵۹) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے۔ (پ24،سورۃالغافر(المؤمن):59)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قیامت کا دن اٹل حقیقت ہے، چاہے انسان اس کا انکار کرے یا بھول جائے۔ ایمان بالآخرة ہی وہ یقین ہے جو انسان کو جواب دہی اور احتساب کا شعور دیتا ہے۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے: کہ ارشاد فرمایا کہ بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اور اس کے شواہد اتنے واضح ہیں  جن کی وجہ سے قیامت آنے میں  کچھ شک نہیں  رہتا لیکن اکثر لوگ (دلائل میں  غور وفکر نہ کرنے کی وجہ سے)  اس پر ایمان نہیں  لاتے اور نہ ہی اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ ( روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۵۹، ۸ / ۱۹۹-۲۰۰، مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۵۹، ص۱۰۶۳، ملتقطاً)

قیامت کے ہولناک مناظر:قرآن میں قیامت کے دن کے حالات بڑے مؤثر انداز میں بیان کیے گئے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

زمین و آسمان کا حال: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) ترجمہ کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔(سورۃ الانفطار:1،2)

پہاڑوں اور زمین کی کیفیت: وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنزالعرفان:اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔(سورۃ النباء:20)

انسانوں کا حال: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمہ کنزالعرفان:پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔(سورۃ عبس:33 تا 37)

یہ مناظر ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ دنیا کے رشتے، مال اور عہدے سب بے کار ہوں گے اور صرف اعمال ہی باقی رہیں گے۔

توبہ اور نیک اعمال کی ترغیب:قیامت کا ذکر دراصل ایک نصیحت ہے کہ انسان آج ہی لوٹ آئے، ورنہ کل کی پکڑ سخت ہوگی۔