عبد الخالق بلوچ عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قیامت
کے بارے میں مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ قیامت ضرور قائم ہونے والی ہے اور
قیامت کے دن اللہ پاک کے حضور حاضر ہوکر حساب وکتاب بھی دینا ہے ۔اللہ پاک نے قرآن
مجید میں ارشاد فرمایا : اِذَا وَقَعَتِ
الْوَاقِعَةُۙ(۱) ترجمہ
کنز العرفان :جب واقع ہونے والی واقع ہوگی۔(الواقعہ:1)
اس
آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی جو کہ ضرور
قائم ہونے والی ہے تواس وقت ہر ایک اس کا اعتراف کر لے گااور اس کے واقع ہونے کا
کوئی انکار نہیں کر سکے گا۔ اور قیامت چونکہ بہر صورت واقع ہو گی ا س لئے ا س کا
نام واقعہ رکھا گیا ہے ۔
اس
دنیا میں کوئی اگر قیامت پر ایمان نہیں رکھتا تو اس وقت ہرایک اعتراف کرے گا اس
حوالے سے فرمایا کہ لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ(۲) ترجمہ
کنز العرفان :(اس وقت )اس کے واقع ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔(سورۃ
الواقعہ : آیت نمبر 2)
اور
قیامت کے احوال بہت سخت ہیں اور وہ دن لوگوں کے لیے بہت سخت ترین دن ہوگا ۔ اللہ
پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا
الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)ترجمہ
کنز العرفان :دل دہلادینے والی۔وہ دل دہلادینے والی کیاہےاور تجھے کیا معلوم کہ وہ
دل دہلادینے والی کیاہے۔ جس دن آدمی پھیلے
ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔(سورۃ:القارعہ:آیت 1تا4)
لہذا
قیامت سخت ترین پریشانیوں اور مشکل ترین دن ہوگا اور اس دن ہر ایک دوسرے سے بیزار
ہوگا اور ہر ایک اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا ۔
اللہ
پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)
وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ کنز العرفان :اس
دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے
بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا
کردے گی۔
حضرت
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن تم ننگے پاؤں
، ننگے بدن اور بے ختنہ شدہ اٹھائے جاؤ گے۔ایک صحابیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا
نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! ﷺ ، کیا لوگ ایک
دوسرے کے ستر کو بھی دیکھیں گےارشاد فرمایا: ’’اے فلاں عورت!
لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکرپڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے)
بے پروا کردے گی۔
اللہ
پاک ہم کو قیامت کے دن کی تیاری کرنے اور حساب وکتاب دینے کے لیے آپنے دلوں میں
احساس پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔
Dawateislami