دنیا کی زندگی عارضی اور فانی ہے، مگر اس کے بعد ایک ابدی اور حقیقی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہے، جس کا آغاز قیامت سے ہوگا۔ قیامت کا دن، وہ عظیم دن ہے جسے قرآن مجید نےیوم الحساب، یوم الفصل، یوم الوعید جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ یہ دن صرف ایک معمولی دن نہیں بلکہ پوری کائنات کے نظام کو الٹ دینے والا دن ہوگا۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، سمندر اُبل پڑیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا، زمین اپنی خبریں اُگل دے گی اور انسان بدحواس ہو کر دوڑتا پھرے گا، کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔

یہ وہ دن ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد بار کیا تاکہ انسان غفلت سے بیدار ہو، اور اپنے انجام کو یاد رکھ کر اپنی زندگی کو سنوارے۔ قیامت کے احوال انسان کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ ذیل میں احوالِ قیامت کے متعلق چند آیات پیش کی جارہی ہیں:

1: روز قیامت زمین پر زلزلہ: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز العرفان:جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔(پ30،الزلزال،1)

ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔( تفسیر صراط الجنان، جلد 10 ، تحت الایۃ الزلزال 1)

2: یوم قیامت زمین کا اپنا بوجھ نکال دینا: وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ کنز العرفان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔( پارہ 30 ، سورۃالزلزال ، آیت نمبر 2)

3 : روز قیامت لوگوں کی مختلف حالتیں: یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) ترجمہ کنز العرفان:اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔ ( پارہ 30 ، سورۃالزلزال ، آیت نمبر 6)

اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ حساب کی جگہ پر پیش ہونے کے بعد وہاں سے کئی راہیں ہو کر لوٹیں گے، کوئی دائیں طرف سے ہو کر جنت کی طرف جائے گا اور کوئی بائیں جانب سے ہو کر دوزخ کی طرف جائے گا تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزاء دکھائی جائے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جس دن وہ اُمور واقع ہوں گے جن کا ذکر کیا گیا تو ا س دن لوگ اپنی قبروں سے حساب کی جگہ کی طرف مختلف حالتوں میں لوٹیں گے کہ کسی کا چہرہ سفید ہو گا اور کسی کا چہرہ سیاہ ہو گا،کوئی سوار ہو گا اور کوئی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پیدل ہو گا،کوئی امن کی حالت میں ہو گا اور کوئی خوفزدہ ہو گا تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔( تفسیر صراط الجنان ، جلد 10 ، تحت الایۃ الزلزال 6).

4: نیک و بد اعمال کا بروز قیامت دکھایا جانا: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ترجمہ کنز العرفان:توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔ ( پارہ 30 ، سورۃالزلزال ، آیت نمبر 7،8)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مَا فرماتے ہیں کہ ہر مومن اور کافر کو قیامت کے دن اس کے نیک اوربرے اعمال دکھائے جائیں گے، مومن کو اس کی نیکیاں اور برائیاں دکھا کر اللہ تعالیٰ برائیاں بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اورکافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ وہ کفر کی وجہ سے ضائع ہوچکیں اور برائیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔

حضرت محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تووہ اس کی جزا دنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی برائیوں کی سزا دنیا میں پائے گا تو آخرت میں اس کے ساتھ کوئی برائی نہ ہوگی۔( تفسیر صراط الجنان ، جلد 10 ، تحت الایۃ الزلزال 7،8).

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔