حافظ محمد عمر نقشبندی ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
قرآنِ
مجید قیامت کے دن کو ایک عظیم اور یقینی حقیقت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ قیامت وہ
دن ہے جب تمام انسان اپنے اعمال کا حساب دینے کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے۔ یہ
دن ایسا ہولناک اور فیصلہ کن ہوگا کہ زمین و آسمان کی کایا پلٹ دی جائے گی، پہاڑ ریزہ
ریزہ ہو جائیں گے اور ہر جان اپنے انجام کو پہنچے گی۔ قرآن نے مختلف مقامات پر قیامت
کے مناظر نہایت واضح انداز میں ذکر کیے ہیں تاکہ انسان دنیا میں غفلت چھوڑ کر اللہ
کی اطاعت اختیار کرے۔
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ
اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ
کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے۔ اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے۔ (پ30، الزلزال:2, 1)
قیامت
کے دن ایسا زلزلہ آئے گا جس سے زمین اپنے تمام راز اور مردوں کو باہر نکال دے گی
تاکہ ان کا حساب ہو سکے۔
یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ
الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان:جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے۔ اور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی اون
۔(پ30، القارعۃ :4,5 )
انسان
خوف کے باعث بے قابو ہو کر ادھر ادھر بھاگیں گے اور مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر
ہوا میں اڑ جائیں گے۔
فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ
الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) ترجمہ
کنز الایمان: پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک دم۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً
چورا کردئیے جائیں۔ (پ29، الحاقہ:13,14)
وضاحت: صور کا پھونکا جانا قیامت کے آغاز کی
علامت ہے، جس کے ساتھ ہی کائنات کا پورا نظام ختم جائے گا۔
اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْۙ(۱) وَ اَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَ حُقَّتْۙ(۲)
ترجمہ
کنز الایمان:جب آسمان شق ہو ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور اسے سزاوار ہی یہ
ہے۔(پ30، الانشقاق1,2)
وضاحت:
قیامت کے روز آسمان پھٹ جائے گا اور اللہ کے حکم کے آگے ہر شے سرِ تسلیم خم کر دے گی۔
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا
الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳)
ترجمہ کنز الایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب
تارے جھڑ پڑیں۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ (پ30، التکویر3-1)
وضاحت:
کائنات کے بڑے بڑے اجرامِ فلکی اپنی روشنی کھو دیں گے، نظامِ فلک درہم برہم ہو
جائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیے جائیں گے۔
قرآنِ
حکیم قیامت کے دن کو نہ صرف ایک یقیناً پیش آنے والا واقعہ قرار دیتا ہے بلکہ اس
کے ہولناک مناظر بھی بیان کرتا ہے تاکہ انسان عبرت حاصل کرے۔ اس دن زمین و آسمان کی
ہر چیز بدل جائے گی اور ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ یہ آیات ہمیں تنبیہ کرتی
ہیں کہ ہم دنیاوی غفلت کو چھوڑ کر نیک اعمال کریں اور اللہ کی اطاعت اختیار کریں
تاکہ اس دن کی سختیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
Dawateislami