اللہ
پاک نے اپنے پاک کلام میں اپنی مخلوق کے لیے خوف و عبرت حاصل کرنے کے لیے بےشمار
واقعات اور نصیحتیں فرمائی ہیں تاکہ اس کے بندے دنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر اس
دن کو بھول نہ بیٹھیں کہ جس دن سورج سوا میل کی دوری پر ہو گا،زمین تانبے کی ہوگی،پہاڑ
روئی کی طرح اڑیں گے اور ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہو گا،اس دن ماں بیٹے سے اور بیٹا
ماں سے دور بھاگے۔ ہاں وہ قیامت کا دن ہی
ہے۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں لاتعداد مرتبہ قیامت کے احوال اور اس کی ہولناکیوں
کو بیان کیا ہے تاکہ اس کے بندے ان ہولناکیوں سے عبرت حاصل کریں اور راہ راست پر
چلیں۔چناچہ اس مضمون میں ہم ان آیاتِ کریمہ کا مطالعہ کریں گے جن میں رب قہار نے قیامت
کے سخت احوال کا ذکر کیا ہے۔پڑھیئے اور عبرت حاصل کیجئے:
(1)
آسمان کھول دیا جائے گا: وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ
فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز العرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا
تو وہ دروازے بن جائے گا۔اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک
چمکتی ہوئی ریت جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔(پ30،النبا،آیت نمبر 19۔20)
(2)
روز قیامت انسانوں کا حال: اللہ رب ذوالجلال قیامت کے دن
انسانوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمۂ کنز العرفان: دل اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ان
کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ (پ30،النازعات،آیت نمبر 8۔9)
(3)
جس دن سورج کو لپیٹ دیا جائے گا: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲)
وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ (۴)
ترجمہ کنز العرفان: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب
پہاڑ چلائے جائیں گے۔اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوٹی پھریں گی۔ (پ30، التکویر،
آیت نمبر 1۔4)
(4)
روز محشر اعمال کا حساب: وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ-وَ
نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ
كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے
اس کے گلے میں لگادی ہے اور ہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامۂ اعمال نکالیں گے
جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔( فرمایا جائے گا کہ) اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے
متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔(پ15،بنی اسرائیل،آیت نمبر:13ـ 14)
(5)
نفسی نفسی کا عالم: یَوْمَ
تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ
حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ
عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ
حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن
ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔(پ17،الحج،آیت نمبر: 2)
معلوم
ہو اکہ قیامت کا دن اس قدر سخت ہو گا کہ اس دن کوئی کسی کا نہ ہو گا۔ہمیں چاہیے کہ
ہم۔ان آیات سے عبرت حاصل کریں اور اپنے آپ کو نیکیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کریں
تاکہ روز محشر کی سختی سے نجات پا سکیں۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami