محمد تیمور عطاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ذرا سوچیں جب رات کا سکوت جب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوگا
اور فلک کے چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگیں گے، تب کائنات کا پردہ ہٹے گا۔ زمین جس
پر ہم نے خواب بوئے، قبریں جن میں صدیوں سے انسان سو رہے ہیں، سمندر جن کی گہرائیوں
نے اسرار چھپا رکھے ہیں، سب ایک لرزہ خیز صدا پر ہل اٹھیں گے۔ وہ دن نہ کہ سورج کی
روشنی پہچانی جائے گی، نہ چاند کا جمال باقی رہے گا۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح
اڑتے دکھائی دیں گے، سمندر اپنی سرحدیں توڑ دیں گے اور آسمان ایسے چاک ہوگا جیسے
پرانا پردہ پھٹ جائے۔
انسان
اُس دن پہلی بار سمجھے گا کہ دنیا کی حقیقت کیا تھی اور انجام کس قدر قریب تھا۔
زبانیں بند ہوں گی، اعضا گواہی دیں گے، اور ہر آنکھ اپنے سامنے اپنے اعمال کا کھلا
ہوا دفتر دیکھے گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب وقت اپنی آخری کروٹ بدلے گا اور ابدیت کا
دروازہ کھلے گا۔
(1)
دل دہلانے والی: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا
الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) ترجمۂ کنز الایمان دل دہلانے والی۔کیا وہ
دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی۔
اَلْقَارِعَةُ: وہ
دل دہلادینے والی: قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام اس
لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل جائیں
گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
آواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارِعہ ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ جب وہ صُور میں پھونک ماریں
گے تو ان کی پھونک کی آواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن، القارعۃ، تحت
الآیۃ:1، 4 / 403)
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا
الْقَارِعَةُ: اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے}
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت کا معنی یہ
ہے کہ اے حبیب! ﷺ ،آپ قیامت کی ہَولْناکی،
شدت اور دہشت کو ہماری طرف سے آنے والی وحی کے ذریعے ہی جان سکتے ہیں ۔تو یہاں وحی
کے بغیر قیامت کی ہَولْناکی کے علم کی نفی ہے(نہ کہ مُطلَق علم کی نفی ہے)۔( سورۃ
القارعہ آیت نمبر ، 1، 2، 3، )
(
2 )پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے گے : وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمۂ کنز الایماناور پہاڑ ہوں گے جیسے دُھنکی
اون ۔
وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی
اون کی طرح ہوجائیں گے: یعنی دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے
بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں
اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں
تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!(سورۃ القارعہ آیت نمبر 4 )
(
3 ) آسمان پھٹ جائے گے : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ
بُعْثِرَتْۙ (۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ:
جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور
جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے
گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے
اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے
زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا
برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس
سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( سورۃ الانفطار آیت
نمبر ،1، 2، 3، 4، 5، )
(
4 ) قیامت کا زلزلہ: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ
اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ
تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ
حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ
عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک
قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ
پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن
ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(
سورۃ الحج آیت نمبر 1، 2 ،)
(
5 ) زمین تھرتھرا دی جائے گی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ
الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ(۳) ترجمۂ کنز الایمانجب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔،، اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے ۔اور آدمی کہے اسے
کیا ہوا ۔( سورۃ الزلازل آیت نمبر 1، 2 ، 3،)
اے
پیارے اسلامی بھائیو! قیامت کا دن کوئی کہانی نہیں، یہ یقینی حقیقت ہے۔ اُس دن نہ
مال کام آئے گا نہ اولاد، صرف ایمان اور نیک اعمال ساتھ ہوں گے۔ زمین، آسمان،
پہاڑ، سمندر سب ٹوٹ پھوٹ جائیں گے اور انسان اپنے ہر عمل کے بدلے کو اپنی آنکھوں
سے دیکھ لے گا۔ پس عقل مند وہی ہے جو آج ہی اپنا حساب کرلے، اس سے پہلے کہ کل اپنے
اعمال کا دفتر دیکھ کر پشیمان ہو !
Dawateislami