ماجد علی ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ،
پاکستان)
قرآنِ
کریم میں قیامت کے دن کے مختلف ہولناک مناظر کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، جو انسان
کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ یہاں چند اہم آیات کے خلاصے پیش کیے جاتے ہیں:
(1)
زمین کا زلزلہ اور بکھر جانا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) " جب زمین تھرتھرادی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور اپنے بوجھ باہر نکال
دے گی۔" (سورۃ الزلزال: 1-2)
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا:
جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ارشاد فرمایا کہ جب زمین
اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی
پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ
تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔
(خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱،
۴ / ۴۰۰)
قیامت کا زلزلہ کتنا ہَولْناک ہے اس کے بارے میں
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا
رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا
تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ
حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ
اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک
قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ
پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی
اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میںنہیں ہوں گے لیکن ہے
یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(2)
آسمان کا پھٹ جانا: اِذَا السَّمَآءُ
انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے
جھڑ پڑیں۔(سورۃ الانفطار: 1-2)
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ:
جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور
جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے
گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے
اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے
زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا
برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس
سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان،
الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)
اوریہ جاننا اعمال نامے پڑھنے کے ذریعے ہو گا جیسا
کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ-وَ
نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ
كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اورہم اس کیلئے
قیامت کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ (فرمایا جائے گا
کہ) اپنا نامہ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔(بنی
اسرائیل:۱۳،۱۴)
(3)
پہاڑوں کا روئی کی طرح اُڑنا: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) "اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگین
اون۔" (سورۃ القارعہ: 5)
وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ
كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ: اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی
اون کی طرح ہوجائیں گے: یعنی دل دہلا دینے والی قیامت کی ہَولْناکی اور دہشت سے
بلند و بالا اور مضبوط ترین پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں
اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح رنگ برنگی اُون کے ریزے دُھنتے وقت ہوا میں اڑتے ہیں
تو ا س وقت کمزور انسان کا حال کیا ہو گا!( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۴۰۳،
روح البیان، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۵،
۱۰ / ۵۰۰،
ملتقطاً)
(4)
ماں اپنے بچے کو بھول جائے گی: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے
دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔(سورۃ
الحج،2)
تفسیر صراط الجنانیَوْمَ تَرَوْنَهَا:جس دن
تم اسے دیکھو گے: ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ
حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی
اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے
خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔( خازن،
الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۳ / ۲۹۸)
Dawateislami