قیامت
کا معنی۔ قیامت
کے لفظی معنی "کھڑا ہونا" یا "قیام کرنا" ہیں، جبکہ شرعی معنی "وہ دن جب لوگ قبروں سے اٹھ کر حساب کتاب
کے لیے جمع ہوں گے"
ہے۔
قرآن
کے مطابق قیامت کا دن وہ خوفناک لمحہ ہے جب تمام
لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر میدان حشر میں جمع ہوں
گے، اور وہاں سخت پیاس اور گھبراہٹ ہوگی، پھر سب
لوگ اپنے اعمال کا حساب دینے کے بعد جنت یا جہنم
میں داخل ہوں گے. قیامت کا ایک دن پچاس ہزار سال کے
برابر ہوگا۔ قرآن پاک میں قیامت کے دن کا تذکرہ متعدد
مقامات پر کیا گیا ہے ۔ سورۃ واقعہ میں ارشاد ہوتا ہے۔
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱) لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا
كَاذِبَةٌۘ(۲) ترجمہ:
کنزالعرفان۔ جب واقع ہونے والی واقع
ہوگی۔۔ (اس وقت )اس کے واقع ہونے میں
کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔(پ27، سورۃ واقعہ
آیت 1،2)
اس
آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت
قائم ہو گی جو کہ ضرور قائم ہونے والی ہے تواس وقت ہر
ایک اس کا اعتراف کر لے گااور اس کے واقع ہونے کا کوئی
انکار نہیں کر سکے گا۔ اورقیامت چونکہ بہر صورت واقع
ہو گی ا س لئے ا س کا نام واقعہ رکھا گیا ہے۔ ( مدارک، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۱-۲، ص ۱۱۹۸، تفسیرکبیر، الواقعۃ، تحت۔ الآیۃ: ۱-۲،
۱۰ / ۳۸۴، بیضاوی،
الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۱-۲، ۵ / ۲۸۳، ملتقطاً)
ایک
اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴)
وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶) ترجمہ:
کنزالایمان:جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر اور, پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چُورا ہوکرتو ہوجائیں گے جیسے روزن(سوراخ) کی دھوپ
میں غبار کے باریک ذرّے پھیلے ہوئے۔ (سورۃواقعہ آیت
4،5،6 )
جب
زمین تھرتھرا کرکانپے گی: اس آیت اور ا س
کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ
ہے کہ جب (قیامت قائم ہو گی تو اس
وقت) زمین تھرتھرا کرکانپے گی جس سے اس کے اوپر موجود
پہاڑ اور تمام عمارتیں گر جائیں گی اور یہ اپنے اندر موجود
تمام چیزیں باہر آجانے تک کانپتی رہے گی اور پہاڑ چُورا
ہوکر خشک ستوکی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اوروہ اس
وجہ سے ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں
گے۔( روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۴-۶،
۹ / ۳۱۶-۳۱۷)
اللہ عَزَّ وَجَلّ َسے دعاہے کہ وہ ہمیں
روزِ محشر اپنے۔ پیارے حبیب ﷺ کی شفاعت سے نصیب
فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔
Dawateislami