قیامت کا دن اسلام میں ایک بنیادی عقیدہ ہے، جسے یوم الآخِر، یومُ الدِّین یا یومُ الحِساب بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب:

1. اللہ تعالیٰ سب مردوں کو زندہ کرے گا۔

2. ہر انسان کے اعمال کا حساب ہوگا۔

3. نیک لوگ جنت میں جائیں گے اور برے لوگ جہنم میں۔

قیامت کے بارے میں قرآن مجید میں کئی مقامات پر تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ یہاں چند اہم آیات بطور مثال پیش کی جاتی ہیں:

2: قیامت کے دن زمین تھرتھراےگی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ۔(پ30،الزلزال،1)

ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱)

3:قیامت کی سختی سے دل دہل جائیں گے: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان :دل دہلانے والی۔ (پ30،القارعہ،1)

اَلْقَارِعَةُ: وہ دل دہلادینے والی: قارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں کے) دل دہل جائیں گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارِعہ ‘‘ کہتے ہیں کیونکہ جب وہ صُور میں پھونک ماریں گے تو ان کی پھونک کی آواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ:۱، ۴ / ۴۰۳)

 4:تقوی اور خوف خداوندی پر ابھارنے والی چیز یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔ (پ17،الحج،1)

قیامت کی ہَولناکیاں ،اس کا حساب وکتاب اور اس کے اَحوال پیش ِنظر ہوں گے توکوئی بھی انسان کسی دوسرے کی حق تَلفی ،ظلم وستم ، اور کسی قسم کی بھی زیادتی نہیں کرے گا۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اور اس کی اطاعت میں مشغول ہو جاؤ، بیشک قیامت کا زلزلہ جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت کے قریب سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے نزدیک واقع ہو گابہت بڑی چیز ہے۔( خازن، الحج، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۲۹۸، مدارک، الحج، تحت الآیۃ: ۱، ص۷۳۰، ملتقطاً)