فیضان علی (درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے قرآن پاک میں قیامت کے احوال کو
تفصیل سے ذکر فرمایا ہے کہ اس دن باپ اپنے بیٹے کی نہیں سنے گا قیامت کے دن کوئی
کسی کی مدد نہیں کرے گا قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اس دن نفسی نفسی کا عالم ہوگا
چند آیات مبارکہ قیامت کے احوال کے بارے میں سنتے ہیں .
(1)
دل بہلادینے والا منظر : اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا
الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ
تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ(۵) ترجمہ کنز العرفان: وہ دل دہلادینے
والی۔وہ دل دہلادینے والی کیاہےاور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہےجس
دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی
طرح ہوجائیں گے۔(حوالہ سورۃ القارعہ آیت نمبر 1/2/3/4/5 پارہ نمبر 30)
(2)جب
زمین تھر تھرا دی جائے گی : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) وَ اَخْرَجَتِ
الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) ترجمہ:
کنز العرفان :جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔اور زمین
اپنے بوجھ باہر پھینک دے گی۔(حوالہ پارہ نمبر 30 سورۃ الزلزال آیت نمبر 1/2 )
(3)جب
آسمان پھٹ جائے گا : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱)
وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ
اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ
اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ
کنزالعرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے
جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا
اور جو پیچھے چھوڑا۔ (حوالہ پارہ نمبر 30 سورۃ الانفطار آیت نمبر 1/2/3/4/5)
(4)جب
سورج کو لپیٹ دیا جائے گا : اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمہ کنز العرفان:جب سورج کو
لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔(حوالہ پارہ نمبر 30 سورۃ الشمس آیت نمبر 1/2)
(
5)صور پھونکنا : فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ
نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا
دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱۵) ترجمہ: کنزالعرفان:پھرجب صور میں
(پہلی مرتبہ) ایک پھونک ماری جائے گی۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا
چوراکردئیے جائیں گے۔تو اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی۔(حوالہ پارہ نمبر
(29) سورۃ الحاقہ آیت نمبر 13/14/15)
Dawateislami