توصیف الرحمٰن عطاری( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
قرآنی
آیات میں دیگر چیزوں کے بیان کے ساتھ ساتھ روزِ قیامت، اُس کی ہولناکیوں اور اُس
سے پہلے رونما ہونے والے واقعات، آثار اور علامات کا بیان بھی بڑے واضح انداز سے
موجود ہے۔ جس میں مردے قبروں سے اٹھائے جائیں گے، میدان حشر میں جمع ہوں گے، اور
حساب کتاب کے بعد جنت یا جہنم میں داخل ہوں گے۔ اس کے شروع ہونے سے قبل علامات صغریٰ
اور کبریٰ نشانیاں ظاہر ہوں گی۔
آیئے اب ہم قیامت کے چند احوال ملاحظہ کرتے ہیں :
(1 ) آسمان کا پھٹنا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱)
وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ
اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ
اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنز
العرفان: جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں
گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور
جو پیچھے چھوڑا۔ ( پ 30 ، الانفطار : 82 ،
آیت 1۔ 5 )
(2) نامہ اعمال کا پڑھنا:وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ
عُنُقِهٖؕ-وَ نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ
مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴)ترجمہ
کنز العرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اور ہم اس کیلئے
قیامت کے دن ایک نامۂ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔۔( فرمایا جائے گا
کہ) اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔ ( پ : 15، بنی اسرائیل: 17 ، آیت 13۔ 14)
(3) زمین کا تھر تھرانا :اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز العرفان: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی
جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔ ( پ : 30 ، الزلزال: 99 ، آیت 1 )
(4) صور کا پھونکنا : اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی
الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان : :بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر
وقت ہے۔جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج در فوج چلے آؤ گے۔ ( پ: 30 ، النبا: 78 ، آیت 17 ۔18 )
(5) پہاڑی چلائے جائیں گے : وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹)
وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنز العرفان: اور آسمان کھول دیا جائے گا تو وہ دروازے بن
جائے گا۔اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے باریک چمکتی ہوئی ریت
جو دور سے پانی کا دھوکا دیتی ہے۔ ( پ: 30
، النبا: 78 ، آیت 19- 20 )
(6) دل کا خوفزدہ ہونا : قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمہ کنز العرفان: دل اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ان کی
آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ ( پ: 30 ، النازعات: 79، آیت 8-9)
مذکورہ بالا تمام آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کے قیامت
کا دن خوف و ڈر ، مشکلات اور پریشانیوں کا دن ہے ۔
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ
سَلْبِ ایماں پُرسِشِ قبر و قِیامت سے ڈرو
علم کو کافی نہ سمجھو نیکیاں کرتے رہو
دعا
ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں خوب نیک اعمال کرنے اور دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری
کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami