عبدل رحمان عطّاری (درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
قیامت
وہ دن ہے کہ جس کا اللہ تعالی نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے اس دن اللہ تعالی
بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا و سزا دے گا جن کے اعمال اچھے ہوں گے تو انہیں
اللہ عزوجل جزا دے گا اور جن کے اعمال برے ہوں گے تو انہیں اللہ عزوجل سزا دے گا اور
قیامت کے احوال کو قران مجید میں کئی طرح سے بیان کیا گیا ہے قران پاک میں احوالے
قیامت کچھ یوں بیان ہوئے ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(پ30،الزلزلۃ،1)
تفسیر صراط الجنان: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ
زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے
ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر
کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر
چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا
قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔
اور
قران مجید میں ایک مقام پر اور فرمایا گیا قیامت کا زلزلہ کتنا ہولناک ہے اس کے
بارے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ
زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بیشک
قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے۔(پ17،الحج،1)
آیت
کی تفسیر : یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا
رَبَّكُمْ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو: اس سورۃٔ مبارکہ کی پہلی آیت
میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ تقویٰ
اور خوفِ خدا ہی ایسی چیزیں ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اَعمال واَخلاق کی اصلاح
کرتا ہے اور معاشرہ میں ایک اچھا انسان بن کر رہتا ہے۔ اور چونکہ تقویٰ اور خوفِ
خداوندی پر سب سے زیادہ ابھارنے والی چیز قیامت ہے لہٰذا اس کاتذکرہ بھی اسی آیت
میں کردیا کہ قیامت کی ہَولناکیاں ،اس کا حساب وکتاب اور اس کے اَحوال پیش ِنظر
ہوں گے توکوئی بھی انسان کسی دوسرے کی حق تَلفی ،ظلم وستم ، اور کسی قسم کی بھی زیادتی
نہیں کرے گا۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اور اس کی
اطاعت میں مشغول ہو جاؤ، بیشک قیامت کا زلزلہ جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت
کے قریب سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے نزدیک واقع ہو گابہت بڑی چیز ہے۔ ( پ17 ،
الحج، آیت: 1)
اور
اسی کی اگلی آیت میں فرمایا گیا: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ
كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ
تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن تم
اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھنی
اپنا گابھ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور وہ نشہ میں نہ
ہوں گے مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے۔ (پ17، الحج، آیت2)
تفسیر صراط الجنان میں ہیں:یَوْمَ تَرَوْنَهَا:جس
دن تم اسے دیکھو گے: ارشاد فرمایا کہ جس دن تم قیامت کے اس زلزلے کو دیکھو گے تو یہ
حالت ہوگی کہ اس کی ہیبت سے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی
اور اس دن کی ہولناکی سے ہر حمل والی کا حمل ساقط ہو جائے گا اور تو لوگوں کو دیکھے
گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں
گے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
چنانچہ
رب تعالی عزوجل قرآن مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے : یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُ(۹) فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا
نَاصِرٍ(۱۰) ترجمۂ کنز الایمان:جس
دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی ۔تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار ۔ (پ30،الطارق،9،10)
تفسیر صراط الجنان: یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُ: جس دن چھپی باتوں کو
جانچا جائے گا:اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جس دن چھپی باتوں
کو ظاہر کر دیا جائے گا تو اس دن مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کاا نکار کرنے
والے آدمی کے پاس نہ کوئی ایسی قوت ہوگی جس سے وہ عذاب کو روک سکے اور نہ اس کا
کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اُسے عذاب سے بچا سکے۔ چھپی باتوں سے مراد عقائد ،نیتیں اور
وہ اعمال ہیں جن کو آدمی چھپاتا ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سب کو ظاہر کردے گا( پ30س طارق آیت9)
اللہ
تعالی ارشاد فرماتا ہے : فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ
الْقَمَرُۙ(۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر
جس دن آنکھ چوندھیائے گی۔اور چاند گہے گا ۔اور سورج اور چاند ملادئیے جائیں گے ۔
(پ29، القیامہ: 7تا9)
تفسیر صراط الجنان: فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ:
توجس دن آنکھ دہشت زدہ ہوجائے گی: اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ کافر نے قیامت
کے واقع ہونے کو بعید سمجھتے ہوئے مذاق اُڑانے کے طور پر اس کے بارے میں سوال کیا
کہ قیامت کب واقع ہو گی اور اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے ا س کے سوال کا جواب دیتے ہوئے قیامت
کی تین علامات بیان فرمائی ہیں ۔
(1)اس
دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زدہ ہوجائے گی۔
(2)چاندکی
روشنی زائل ہوجائے گی جس سے وہ تاریک ہو جائے گا۔
(3) سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔ یہ ملا دینا
طلوع ہونے میں ہوگا کہ دونوں مغرب سے طلوع ہوں گے یا بے نور ہونے میں ہو گا کہ دونوں
کی روشنی ختم ہوجائے گی۔( پ29 ، القیامہ آیت7،
8، 9 )
Dawateislami