قرآن مجید میں انسانی زندگی کے ہر پہلو پر رہنمائی فراہم کی گئی ہے، اور اس کا ایک اہم حصہ روزِ آخرت کا بیان ہے۔ روزِ قیامت، جس کا ذکر قرآن میں بار بار کیا گیا ہے، وہ دن ہے جب کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ یہ دن اللہ کی لامحدود قدرت اور عدل کا مظہر ہوگا۔ قرآن نے قیامت کے ان ہولناک اور حیرت انگیز احوال کو اس قدر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے کہ یہ دلوں کو دہلا دیتا ہے اور انسانوں کو اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتے ہیں۔

قیامت سے قبل کے قرآنی نشانات:قرآن کے مطابق قیامت اچانک نہیں آئے گی، بلکہ اس سے پہلے کچھ واضح نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ اللہ نے سورۃ الزخرف میں فرمایا ہے: هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۶۶) ترجمۂ کنز الایمان :کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ اُن پر اچانک آجائے اور اُنہیں خبر نہ ہو۔(پ 25،الزخرف،66)

یہ اچانک آنے والا لمحہ ہوگا لیکن اس سے پہلے دنیا میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی، جن کا ذکر حدیث میں بھی ملتا ہے۔ قرآن نے قیامت کے قریب ہونے کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

قیامت کے دن کا آغاز اور کائناتی تبدیلیاں:قیامت کا آغاز ایک سخت آواز یا صور پھونکنے سے ہوگا، جسے قرآن نے مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ سورۃ الحاقہ میں فرمایا گیا: فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ(۱۵) ترجمۂ کنز الایمان:پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک دم اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردئیے جائیں وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی۔ (پ29،الحاقۃ،13تا15)

اس صور کے پھونکتے ہی کائنات کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ زمین اپنی اندرونی حرارت اور بوجھ باہر نکال دے گی۔

آسمان اور ستارے: آسمان شگاف پڑ جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور چاند اور سورج کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ سورۃ الانفطار میں ہے : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(پ30،الانفطار،1تا5)

یہ مناظر کائنات کی بے بسی اور اللہ کی لامحدود طاقت کو ظاہر کرتے ہیں۔

انسانی حالت اور نفسا نفسی کا عالم:اس دن ہر انسان اپنی ہی فکر میں ہوگا، کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ قرآن پاک سورۃ عبس میں ہے: فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ۔ اور جورو (بیوی)اور بیٹوں سے۔ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے ۔(پ30،عبس،33تا 37)

ہر انسان اپنے اعمال کی فکر میں ہوگا اور دوسروں کو پہچاننے سے بھی انکار کر دے گا۔ یہ منظر انسان کی بے بسی اور تنہائی کو ظاہر کرتا ہے جب اسے صرف اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہوگا۔

حساب اور اعمال نامے کا پیش ہونا:قیامت کا سب سے اہم مرحلہ حساب کتاب ہے۔ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ سورۃ الکہف میں ہے: وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠(۴۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور نامۂ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیرنہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔(پ15،الکہف،49)

اس دن انسان کے ہاتھ، پاؤں، کان اور زبان اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ یہ گواہیاں چھپائی نہیں جا سکیں گی کیونکہ یہ خود انسان کے اعضاء ہوں گے۔

جزا اور سزا:حساب کے بعد لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا: دائیں ہاتھ والے (جنتی) اور بائیں ہاتھ والے (دوزخی)۔

جنتیوں کا حال: جنتی وہ ہوں گے جنہیں اللہ کی رضا اور اس کا رحم حاصل ہوگا۔ قرآن ان کی جنت میں داخلے کو سورۃ زمر میں ایسے بیان کرتا ہے: وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ(۷۳) وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ(۷۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے اُن کی سواریاں گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوں گے اور اس کے داروغہ اُن سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے۔ اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں کا۔(الزمر،73،74)

انہیں ایسی نعمتیں دی جائیں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔

دوزخیوں کا حال: دوزخی وہ ہوں گے جنہیں ان کے برے اعمال کی سزا ملے گی۔ قرآن جہنم کے عذاب کو خوفناک الفاظ میں بیان کرتا ہے، جیسے کھولتا ہوا پانی، آگ کے لباس اور زنجیریں۔ سورۃ الحج میں ہے:هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ-فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍؕ-یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ(۱۹) یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے تو جو کافر ہوئے ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونتے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے گل جائے گا جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے اور ان کی کھالیں ۔

یہ عذاب ان کے کفر اور نافرمانی کا ہوگا۔

قیامت کا قرآنی بیان محض ایک تصورنہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو اس دنیا میں اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ قیامت کا ذکر انسان کے اندر خوفِ خدا اور نیکی کا جذبہ پیدا کرتا ہے تاکہ وہ برے اعمال سے بچ کر اللہ کے سامنے سرخرو ہو سکے۔ یہ قرآن کا ایک عظیم پیغام ہے جو انسانیت کو ایک بہتر مستقبل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔