محمد اویس تبسم ( دورہ حدیث جامعۃُ
المدینہ فیضان مدینہ سیالکوٹ ، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! حساب کتاب ایک ایسا منظر ہے۔ جس کی وجہ سے انسان کئیں طرح کی
خرافات سے بچا رہتا ہے۔ ہمارے یہاں پولیس ہے تو انسان کوئی غلط کام جو قانونا جرم
ہو کرنے سے پہلے لاکھ بار سوچے گا۔ کہ کہیں پکڑا گیا تو سزا ملے گی عدالت میں پیش
ہونا پڑے گا۔ پیارے اسلامی بھائیو! دین اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ جس میں کئیں
کام کرنے اور کئیں کاموں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ دنیا میں بندے کو اختیار دیا کہ
دونوں راستے نیکی کا اور برائی کا بندے کے سامنے ہے۔ اگر نیکی کے راستے پر چلے گا
تو جنت میں جائے گااور اگر برائی کے راستے پر چلے گا تو دوزخ میں جائے گا ۔اس عظیم
فیصلے کے لیے ایک عظیم دن مقرر کیا گیا جسے قیامت کہتے ہیں۔اللہ اکبر قیامت کے
احوال کس قدر حولناک ہوں گے ! قرآن کریم میں بہت زیادہ مقامات پہ اس بات کا ذکر کیا
گیا ہے کہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا اور وہی دن قیامت ہے۔چنانچہ اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے:
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ(۱)
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ(۲) اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ
نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ(۳) بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ(۴)
بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ(۵) یَسْــٴَـلُ اَیَّانَ یَوْمُ
الْقِیٰمَةِؕ(۶) فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ(۷) وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ(۸) وَ جُمِعَ
الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ(۹) یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍ اَیْنَ
الْمَفَرُّۚ(۱۰) كَلَّا لَا وَزَرَؕ(۱۱) اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَىٕذِ ﹰالْمُسْتَقَرُّؕ(۱۲)
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَىٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ(۱۳) بَلِ
الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ(۱۴) وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ(۱۵)
ترجمۂ کنز العرفان:مجھے قیامت کے دن کی قسم
ہے۔اور مجھے اس جان کی قسم ہے جو اپنے اوپر ملامت کرے۔کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم
ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے۔کیوں نہیں ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کے
انگلیوں کے پوروں (تک) کو ٹھیک کردیں ۔بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے کو جھٹلائے۔پوچھتا
ہے :قیامت کا دن کب ہوگاتوجس دن آنکھ دہشت زدہ ہوجائے گی۔اور چاندتاریک ہوجائے
گا۔اور سورج اور چاند کو ملا دیا جائے گا۔اس دن آدمی کہے گا: بھاگنے کی جگہ کہاں
ہے ہرگز نہیں ،کوئی پناہ نہیں ہوگی۔اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے۔اس دن
آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری
نگاہ رکھنے والا ہوگا ۔اگرچہ اپنی سب معذرتیں لا ڈالے ۔(پ29،القیامۃ،1تا 15)
پیارے
اسلامی بھائیو! قیامت کا دن ایک ایسا دہشت ناک دن ہے۔ کہ دنیا میں بہت پیار کرنے
والے رشتہ دار بھی کام نہیں آئیں گے حتی کہ ماں، باب بھی اس دن اولاد سے دور بھاگیں
گے۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ
عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ
تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ
بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)
ترجمۂ کنز العرفان : اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو
،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)
ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل
ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں
گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
(پ17،الج
،1،2)
پیارے
اسلامی بھائیو! سنا آپ نے کہ قیامت کے دن
ماں اپنے بچے سے دور بھاگے گی کس قدر وحشت کا دن ہو گا مگر اس دن بھی کئیں خوش نصیب
جنہوں نے رب تعالی کو راضی کیا ہو گا وہ اس دن بھی اللہ پاک کے عرش کے سائے میں
ہوں گے اللہ پاک ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے قیامت کی حولناکیوں سے محفوظ رکھے
اور اپنے پیارے حبیب ﷺ کی شفاعت نصیب فرما کر جنت میں داخلہ عطا فرمائے آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ۔
Dawateislami