جب خواہشات نفسانی کا غلبہ ہو تو اس وقت بندہ شیطانی غفلت کی وجہ سے فیصلہ کئے بغیر ٹھنڈے ذہن سے سوچے بغیر افعال سرانجام دے دیتا ہےاس وقت تحمل کے عادی شخص کا بچنا آسان ہوتا ہےحالانکہ اس حساب کے دن ہولناکیوں سے کسی بھی شخص کا دل لرز جائےیہ توفیق ملنا تب ممکن ہے جب اس وقت کا تذکرہ بار بار ہو۔

پہلی دلیل: قرآن کی رہنمائی:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا ترجمہ کنزالایمان: جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔(پ17،الحج،2)

مفہوم: یہ آیت بتاتی ہے کہ قیامت کے دن کا خوف اور ہولناکی اتنی شدید ہوگی کہ فطری محبتیں اور انس بھی بھلا دیے جائیں گے۔

دوسری دلیل: رسول اللہ ﷺ کی احادیث

(1) حشر کا منظر:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يُحشَرُ الناسُ يومَ القيامةِ حفاةً عُراةً غُرلاً ترجمہ: قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے جمع کیے جائیں گے۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث 6527)

مفہوم: یہ حدیث ہمیں اس دن کی بے بسی اور ہیبت کا احساس دلاتی ہے۔

(2) سورج کی نزدیکی :نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ، حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ ترجمہ: قیامت کے دن سورج مخلوق کے قریب کر دیا جائے گا یہاں تک کہ ایک میل کے فاصلے پر ہوگا۔(صحیح مسلم، کتاب صفۃ القيامۃ، حدیث 2864)

مفہوم: یہ منظر بتاتا ہے کہ انسان شدید گرمی اور سخت تکلیف میں مبتلا ہوگا۔

اللہ پاک ہمیں بھی تمام افعال شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین