قیامت کے دن حتمی ہے اور یقینی ہے ایک نہ ایک دن قیامت کا دن آنا ہی ہے اور وہ ایسا دن ہوگا کہ جس دن باپ بیٹے سے بھاگے گا ماں بچوں سے بھاگے گی شوہر بیوی سے اور بچوں سے بھاگے گا اور قیامت کا دن ایک ہولناک دن ہوگا جس دن نہ کوئی مددگار ہوگا نہ کوئی ساتھی ہوگا ، بندے کو اپنے اعمال ہی کام آئیں گے ۔  اس دن کے احوال کہ زمین پھٹ جائے گی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر روئی کی طرح اڑ جائیں گے ستارے پھٹ جائیں گے چاند کی روشنی غائب ہو جائے گی وہ دن کیسا ہولناک دن ہوگا اور اس دن کے احوال کے بارے میں اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر فرمایا آئیے ان میں سے پانچ کو ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) جب زمین تھرتھرائے گی:قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ زمین تھرتھرا اٹھے گی اور پھٹ جائے گی جیسا کہ قران پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔(پارہ 30سورۃ الزلزال آیت نمبر 1)

(2) جب آسمان پھٹ جائے گا:قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ آسمان پھٹ جائے گا ستارے جھڑ جائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اس وقت نفسا نفسی کا عالم ہوگا اسی طرح کے احوال کو قران پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے( پارہ: 30الانفطارایت نمبر 1-5)

(3) دل خوف زدہ ہوں گے:قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جس دن دل ڈرے ہوئے ہوں گے آنکھیں شرم سے جھکی ہوئی ہوں گی اور جسم کا ہر جوڑ گواہی دے گا اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: قُلُوْبٌ یَّوْمَىٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ(۸) اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ(۹) ترجمۂ کنز الایمان : کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے ۔(پارہ: 30سورۃ :النازعات آیت نمبر: 8-9)

(4) جب آسمان کھول دیا جائے گا:قیامت والے دن آسمان کو کھول دیا جائے گا اور اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور چمکتی ریت کی طرح ہوں گے اللہ تبارک و تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمۂ کنز الایمان:اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا۔(پارہ :30سورۃ :النبا آیت نمبر: 19-20)

(5) فیصلے کا دن مقرر ہے:قیامت کا دن یعنی یوم جزا یہ مقرر ہے اور اس دن صور بھی پھونکا جائے گا جیسے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِیْقَاتًاۙ(۱۷) یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًاۙ(۱۸) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک فیصلے کا دن ٹھہرا ہوا وقت ہے۔ جس دن صور پھونکا جائے گا تو تم چلے آؤ گے فوجوں کی فوجیں ۔(پارہ: 30سورۃ:النبا آیت نمبر: 17-18)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ بیان کیا اور قیامت کے احوال کو جانتے ہوئے اللہ تعالی ہمیں قیامت کے دن کا خوف عطا فرمائے اور دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں نیک اعمال کرنے اور لوگوں کو نیک اعمال سکھانے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ قیامت والے دن ہم قیامت کی سختیوں سے بچ سکیں ۔آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ