قیامت
کا دن وہ دن ہے جس کے بارے میں ہر نبی نے اپنی امت کو خبردار کیا، اور قرآن مجید
نے بار بار اسے یاد دلایا۔ یہ ایسا دن ہے جب زمین اپنی سخت ہلچل سے کانپ اٹھے گی،
آسمان پھٹ جائے گا، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، اور ہر انسان کو اپنے اعمال کے
بارے میں اللہ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔آج ہم قیامت کے احوال کے بارے میں قرآنی
بیان پڑھتے ہیں ۔
قیامت
کا منظر : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا
الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا
الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز الایمان:جب آسمان پھٹ پڑے اور جب
تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے
گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔(سورۃ الانفطار،ایت 1تا 5)
زمین
تھرتھرانے لگے گی: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز الایمان:جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا
اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ (سورۃزلزال ایت:1)
وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ(۲) وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا
لَهَاۚ(۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک
دے ۔اور آدمی کہے اسے کیا ہوا ۔(سورۃ الزلزال ایت :2،3)
مذکورہ
آیات میں ہم نے قیامت کے احوال پڑھے ہیں ہمیں قیامت کی تیاری کرنی چاہیے اور ان
کاموں سے بچنا چاہیے جن سے منع کیا گیا ہے ۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین۔
Dawateislami