رضوان علی عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی
کراچی ، پاکستان)
حساب
و کتاب کی طرح قیامت پر بھی ایمان لانا واجب ہے اور اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے
کہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا قیامت کے دن کوئی جان کسی کو نفع نہیں دے گی، قرآن مجید میں اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ
وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ
وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ
بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۳۳)
ترجمہ
کنز الایمان:اے لوگو اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے
بچہ کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کامی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے بیشک الله کا
وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں الله کے حلم
پر دھوکا نہ دے وہ بڑا فریبی۔(سورۃ لقمان : آیت 33)
اس
آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یقیناً ہر انسان کو کو مرنے کے بعد دبارہ اٹھایا جائے
گا اسے چاہیے کہ قیامت کے دن سے خوف کرے جس دن ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گااور
باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافروں کی مسلمان اولاد انہیں
فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافر اولاد کو بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے ا ورایسا دن
ضرور آنا ہے۔
قیامت
کے دن کو جھٹلانے والوں کا انجام:اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا
ہے:
بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ
سَعِیْرًاۚ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان:بلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے
لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ۔(سورۃ: الفرقان: آیت 11)
اس
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں انکے لیے اللہ تبارک و
تعالیٰ نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے :
دعا:اللہ
پاک سے دعا ہے کہ قیامت کے دن ہماری نیکیوں کا پلہ بھاری ہو اور قیامت کے دن ہمیں
اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے میں رکھے ان کی شفاعت نصیب فرمائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Dawateislami