(1) قبروں سے باہر آنے کا دن :   وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ(۴۱) یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ(۴۲) اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گاایک پاس جگہ سے۔ جس دن چنگھاڑ سنیں گے حق کے ساتھ یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا۔بیشک ہم جِلائیں اور ہم ماریں اور ہماری طرف پھرنا ہے ( پارہ ، 26 ، سورۃ ق ، آیۃ 41 تا 43)

(2) زمین و آسمان کا چورا ہونا : فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ(۱۴) فَیَوْمَىٕذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱۵) ترجمہ کنزالایمان: پھرجب صُور پھونک دیا جائے ایک دم۔اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردئیے جائیں ۔وہ دن ہے کہ ہو پڑے گی وہ ہونے والی۔ ( پارہ ، 29۔ ، سورۃ الحاقہ ، آیۃ : 13 تا 15)

قیامت کے احوال کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے اورا س کی ابتداء قیامت قائم ہوتے وقت کے واقعات سے کی گئی ہے،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں ارشاد فرمایا کہ پھرجب صور میں پہلی مرتبہ ایک پھونک ماری جائے گی اور زمین اور پہاڑ اپنی جگہوں سے اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں گے تو اس دن وہ قیامت قائم ہو جائے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ( صراط الجنان ، جلد ، 10،۔ ص : 319)

(3) آسمان کا پھٹنا : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے ( پارہ ، 30 ، سورۃ الانفطار ، آیۃ : 1 تا 5 )

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے ( صراط الجنان ، جلد ، 10 ، ص : 561 ، 562)