قرآن مجید فرقان حمید کو اللہ نے ہدایت اور علم کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس میں اللہ سبحانہ و تعالی نے احکامات،انبیاء کے واقعات، جنت کی نعمتوں اور جہنم کی سزائیں اور قیامت کے احوال اور اس کے علاوہ بہت کچھ بیان کیا ہے تاکہ مومنین ان سے ہدایت حاصل کرے۔ اسی طرح قرآن مجید فرقان حمید میں قیامت کے احوال بھی بیان کیے ہے جیسے سورج و چاند کا بے نور ہونا، پہاڑوں کا پاش پاش ہونا،آسمان کاپھٹنا، ستاروں کی روشنی سلب ہونا اور بکھرنا اور تمام وحشی جانوروں کا جمع کیا جانا یہ سب قیامت کے احوال ہیں۔ جن کے بارے میں آج ہم پڑھے گے۔

قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)

ترجمہ: کنزالعرفان:اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ) ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔( سورۃ الحج آیت: 1،2 پارہ: 17)

تفسیر صراط الجنان میں اس آیت مقدسہ کے تحت ہے: بعض مفسرین فرماتے ہیں ’’یہ دونوں آیات غزوہ بنی مصطلق میں رات کے وقت نازل ہوئیں اور نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی تو وہ ساری رات بہت روئے اور جب صبح ہوئی تو انہوں نے اپنے جانوروں سے زینیں نہ اتاریں اور جس جگہ ٹھہرے وہاں خیمے نصب نہ کئے اور نہ ہی ہانڈیاں پکائیں اور وہ غمزدہ، پُر نم اور فکر مند تھے۔( روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ۲، ۶ / ۳)

اس آیت مبارکہ میں اللہ عزوجل نے قیامت کی حالت بیان فرمائی کہ اس دن کی سختی اتنی زیادہ ہے کہ وہ ماں جو اپنے بچے جو ابھی دنیا میں بھی نہیں آیا ہوتا اس کو بھی بھول جاتی ہے۔

کان پھاڑ دینے والی چنگھاڑ:اس طرح کی ایک اور آیت طیبہ ہے جس میں کہا گیا کہ اس دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے سب اپنے عزیزوں کو بھول جائے گے، والدین اولاد کو اور اولاد والدین کو مرد بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو بھلا دیں گے۔ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ترجمہ: کنزالایمان:پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائیاور ماں اور باپاور جورو(بیوی) اور بیٹوں سے ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے۔(سورۃ عبس پارہ:30 آیت:33تا 37)

اس آیت مقدسہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ: جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑدینے والی آواز آئے گی تو اس دن آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں ، اپنے باپ ،اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔( تفسیرکبیر، عبس،تحت الآیۃ: ۳۳-۳۷، ۱۱ / ۶۱-۶۲، خازن، عبس، تحت الآیۃ: ۳۳-۳۷، ۴ / ۳۵۴-۳۵۵، ملتقطاً)

بروز قیامت حسرت :ایک اور آیت طیبہ ملاحظہ ہو۔ وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ(۲۳) یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ(۲۴) ترجمہ: کنزالایمان:اور اس دن جہنم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی۔(سورۃ الفجر پارہ: 30 آیت: 23،24 )

مفسرین فرماتے ہیں کہ جہنم کی ستر ہزار باگیں ہوں گی ہر باگ پر ستر ہزار فرشتے جمع ہو کر اس کو کھینچیں گے اور وہ جوش و غضب میں ہوگی یہاں تک کہ فرشتے اس کو عرش کے بائیں جانب لائیں گے، اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں گے ،سوائے حضور پُرنور، حبیب ِخدا، سیّد ِانبیاء ﷺ کے کہ حضورِ اکرم ﷺ ’’یَارَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ‘‘ فرماتے ہوں گے ،جہنم حضورِ اَقدس ﷺ سے عرض کرے گی کہ اے سیّد ِعالَم! ﷺ ، آپ کا میرا کیا واسطہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھ پر حرام کر دیا ہے۔ (قرطبی، الفجر، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰ / ۳۹، الجزء العشرون)اس دن انسان سوچے گا اور اپنی غلطیوں ، لغزشوں ، خطاؤں اور گناہوں کو سمجھے گالیکن وہ وقت سوچنے کا نہیں ہوگا اور اس وقت کا سوچنا سمجھنا کچھ بھی فائدہ نہ دے گااور اس سوچنے سے صرف حسرت حاصل ہوگی اور اسی وجہ سے قیامت کا ایک نام یَوْمُ الْحَسْرَۃِ یعنی حسرت کا دن بھی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، پارہ:30، سورۃ الفجر، آیت:23،24)

اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا جو اپنے نامہ اعمال میں نیکیاں کم دیکھ کر یا قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے حسرت میں ڈوبے ہو گے اور کہے گے کہ کاش! ہم نے اور نیکیاں کی ہوتی تاکہ وہ آج ہمارے کام آتی لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی ہو گی۔

یہ تھا قیامت سے متعلق چند احوال جنہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید فرقان حمید میں بیان کیا تاکہ لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرے۔آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ