محمد شبیر رضا ( تخصص فی الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،
پاکستان)
دنیا
دار العمل اور آخرت دار الجزاء ہے یہاں شریعت کی پاسداری کی مشقت اٹھانے والا
راحتِ ابدی کا حقدار ہے ، دوسری طرف دنیا کی مختصر زندگی میں احوال قیامت کو بھول
جانے اور ظاہری عیش و عشرت میں دل لگانے والا آخرت میں پچھتائے گا اور اگر سرکشی
معاذ اللہ حد کفر تک پہنچ گئی تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنتی نعمتوں سے محروم ہوکر
دوزخ میں عذاب پائے گا،پھر جنت و جہنم کا معاملہ تو کجا اس سے قبل قیامت کے وحشت
انگیز احوال ہیں جن سے مسلمان کو ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے بلکہ
اس دن کو بھلا دینے پر وعید وارد ہوئی، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ
عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ
الْحِسَابِ۠(۲۶) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ جو
اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس بنا پر کہ انہوں نے حساب کے دن
کو بھلا دیا ہے۔ (پ23،ص،26)
حصول
عبرت کے لیے چند احوال ذکر کیے جاتے ہیں۔
1۔صُور
ِ اسرافیل اور اس کے اثرات :اسرافیل علیہ السلام پہلا صُور
پھونکیں گے تو اس کا اثر یہ ظاہر ہوگا کہ لوگ بے ہوش ہوجائیں گے پھر دوسرے صُور
پھونکے جانےپر ،مدفونین قبروں سے نکالے جائیں گے اور برہنہ قدم و بدن خوف خدا سے
لرزتے ہوئے میدان محشر کی طرف سفر شروع ہوجائے گا آیات قرآنیہ ان امور کو یوں بیان
کرتی ہیں:صُور اول و ثانی:
وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ
اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸)
ترجمہ
کنز العرفان:اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین
میں ہیں سب بیہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری
جائے گی تواسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے۔(الزمر،68)
قبروں
سے خروج: یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ
الْخُرُوْجِ(۴۲)ترجمہ کنز العرفان:جس دن لوگ حق کے ساتھ ایک چیخ سنیں گے
، یہ (قبروں سے) باہر آنے کادن ہوگا۔(ق،42)
برہنہ
قدم و بدن:كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ
خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗؕ-وَعْدًا عَلَیْنَاؕ-اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۱۰۴) ترجمہ کنز العرفان:ہم اسے
دوبارہ اسی طرح لوٹا دیں گے جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا۔(الانبیاء،104)
صراط
الجنان میں اسی آیت کے تحت ایک تفسیر یہ ذکر کی گئی کہ "جیسا پہلے بنایا
" سے مراد کہ جیسے ماں کے پیٹ سے برہنہ اور غیر ختنہ شدہ پیدا کیا گیا تھا۔
2۔زمین
و آسمان ومافیہا کی کیفیات:اس دن آسمان،زمین ،سمندر ،پہاڑ،سورج
،چاند،ستارے اپنی اصلی حالت پر نہیں رہیں گے بلکہ قیامِ قیامت کی ہیبت کے سبب عجیب
و غریب احوال پر ہوں گے ،اللہ پاک نے قرآن میں ان کا یوں تذکرہ فرمایا:
آسمان: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ]الانفطار:1[ترجمہ کنز العرفان:جب
آسمان پھٹ جائے گا۔زمین: وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً[الحاقۃ:14]ترجمہ
کنز العرفان:اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک دم چورا چوراکردئیے جائیں گے۔سمندر: وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ]الانفطار:3[ترجمہ کنز العرفان: اور
جب سمندر بہادیے جائیں گے۔پہاڑ: وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ[القارعۃ:5]
ترجمہ کنز العرفان:اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔سورج: اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ]التکویر:1[ ترجمہ کنز العرفان:جب
سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔چاند: اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ[القمر:1]
ترجمہ کنز العرفان:قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ستارے: وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتْ]الانفطار:2[ ترجمہ کنز العرفان:اور جب
ستارے جھڑ پڑیں گے۔
3۔رشتہ
داروں کی بے بسی:قرآن پاک میں متعدد مقامات پر رشتہ داروں کی بیکسی اور لاچاری کو
بیان کیا گیا یہاں تک کہ ماں باپ جو دنیا میں اولاد کی ادنی سی تکلیف پر مضطرب
ہوجاتے ہیں انہیں بھی اولاد کی پرواہ نہ ہوگی اور اپنے سوا کچھ نہ سوجھے گا۔اللہ
تعالی ارشاد فرماتا ہے:
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ(۳۳) یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴)
وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶) لِكُلِّ امْرِئٍ
مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)
ترجمہ
کنز العرفان:اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی
بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے
(دوسروں سے) بے پرواہ کردے گی۔(عبس 33 تا 37)
اس
کے بعد اعمال نامہ ،پل صراط اور دیگر دل دہلا دینے والے امور ہیں مگر اختصار کے
پیش نظر انہیں ذکر نہیں کیا جارہا ،بس اس دعا کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ اللہ پاک
ہمیں ان آیات سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے عافیت والا
معاملہ فرمائے۔(آمین)
Dawateislami