اسلامی
عقائد میں یومِ قیامت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ وہ دن ہے جب تمام انسان اپنے
اعمال کا حساب دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے تحت ان کی جزا یا سزا کا
فیصلہ ہوگا۔ قرآن مجید میں قیامت کے دن کی حقیقت، اس کی ہولناکی، علامات، اور اس
دن کے مناظر کو نہایت جامع اور پراثر انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان غفلت
سے بیدار ہو کر اپنی اصلاح کرے۔
قیامت
کا مفہوم"قیامت" عربی زبان کا لفظ ہے جو "قیام"
سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں "کھڑا ہونا" یا "اٹھ کھڑا ہونا"۔
شریعت کی اصطلاح میں قیامت سے مراد وہ دن ہے جب تمام مردہ انسان دوبارہ زندہ کیے
جائیں گے اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کا حساب دیں گے۔ قرآن مجید اس دن کو یوم الدین
(بدلے کا دن)، یوم الفصل (فیصلے کا دن)، یوم الحشر (جمع ہونے کا دن)، الطامۃ الکبریٰ
(بڑی مصیبت)، اور الصاخۃ (چیخ مارنے والا دن) جیسے مختلف ناموں سے یاد کرتا ہے۔
قیامت
کے ابتدائی احوال:قرآن میں قیامت کے دن کے آغاز کو نہایت ہولناک انداز میں
بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الزلزال میں ارشاد ہے:اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز العرفان :جب زمین تھرتھرا دی جائے گی
جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔(الزلزال،1)
سورۃ
القارعہ میں بیان ہے:یَوْمَ
یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)ترجمہ
کنز العرفان جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔(القارعہ: 4)
ان
آیات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کا دن نہایت سخت، دہشت ناک ہو گا۔ زمین لرز اٹھے
گی، پہاڑ روئی کی مانند اڑیں گے، سورج بے نور ہو جائے گا اور سمندر اُبل پڑیں گے۔
کائنات
میں تبدیلی:قیامت کے دن کائنات کی ہر چیز میں تبدیلی آئے گی۔ سورۃ التکویر میں ہے:اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱)
وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) ترجمہ کنز العرفان :جب
سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔(التکویر: 1-2)
اسی
طرح سورۃ الانفطار اور سورۃ الانشقاق میں آسمان کے پھٹنے، زمین کے برابر ہونے اور
قبروں کے الٹنے کا ذکر موجود ہے۔ یہ سب علامات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قیامت
صرف انسانی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ پورے نظامِ کائنات کی تبدیلی کا دن ہوگا۔
انسان
کا حال اور حساب و کتاب:قیامت کے روز انسان کی حالت انتہائی پریشان کن ہوگی۔ سورۃ
عبس میں فرمایا: یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ
مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴) وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵) ترجمہ کنز العرفان : اس دن آدمی
اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔(عبس: 34-35)
اللہ
عزوجل ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت کاملہ سے جنت
الفردوس میں داخل فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ
Dawateislami