جیسے دنیاوی امتحان کے لیے بندے اس کشمکش میں ہوتے ہیں کہ ہم اچھے نمبروں سے پاس ہو جائیں اچھاگریڈ پا جائیں اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اخروی امتحان کے لیے بھی تیاری کریں تاکہ ہم ادھر بھی اچھے گریڈ حاصل کر کے جنت کی طرف روانہ ہو جائیں جیسا کہ :اللہ تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے ۔اور جب تارے جھڑ پڑیں۔اور جب سمندر بہا دئیے جائیں۔اور جب قبریں کریدی جائی۔ہر جان جان لے گی جو اس نے آ گے بھیجا اور جوپیچھے۔(سورۃ الانفطار ایت نمبر 1 تا 5)

اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔ (روح البیان٫الانفطار٫تحت الایت 5ـ1)