آیئے ہم احوال قیامت کے حوالے سے چند قرآنی آیات ذکر کرتے ہیں۔

(1) ہر جان اپنے اعمال کو جان لے گی : اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمہ کنزالایمان : جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے.( پارہ 30 ، سورۃ الانفطار، آیت نمبر 1 تا 5)

(2) قیامت کے نزدیک زمین کا تھر تھرانا : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمہ کنز الایمان : جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے ۔ ( پارہ 30، سورۃ الزلزال، آیت نمبر 1)

( 3)قیامت کے دن آسمان کا کھلنا : وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ اَبْوَابًاۙ(۱۹) وَّ سُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًاؕ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان : اور آسمان کھولا جائے گا کہ دروازے ہوجائے گا۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے کہ ہوجائیں گے جیسے چمکتا ریتا دور سے پانی کا دھوکا دیتا۔ (پارہ 30 ، سورۃ النباء ، آیت نمبر 19 تا 20)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسروں کو نیکیاں کرنے کی اور گناہوں سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین