عبدالحنان (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
اللہ
تعالی نے اپنے بندوں کے اچھے و برے اعمال کی جزا و سزا کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے
کہ جس دن اللہ پاک اپنے بندوں کے اعمال کا حساب و کتاب فرمائے گا اپنے نیک بندوں
کو انعامات سے مالامال فرمائے گا اور گنہگاروں کو جہنم کا عذاب دے گا اس دن کو قیامت
کہتے ہیں قیامت کا دن وہ عظیم دن ہے کہ جس پر یقین رکھنا ہر مسلمان کا جزوِ ایمان
ہے۔ قرآن کریم میں اس عظیم دن کو مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے جن میں (يومُ
الساعة، يومُ الحساب، يومُ الميزان، يومُ عظيم وغيره موجود ہیں)
قارئین
کرام! اللہ پاک نے قیامت کے احوال و ہولناکیوں کا قرآن کریم میں متعدد بار تذکرہ
فرمایا۔ چند آیات ملاحظہ کیجئے۔
1۔
دابَۃُ الاَرْض کا خروج: اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً
مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠
(۸۲) ترجمہ کنز
العرفان:ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لیے
کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔(النمل82، پارہ20)
تفسیر:
اللہ پاک اس آیت کریمہ میں قیامت کی نشانی کا تذکرہ
فرما رہا ہے کہ قرب قیامت ہم ان کے لیے زمین سے ایک عجیب و غریب جسم والا جانور
نکالیں گے جو لوگوں سے فصیح و بلیغ کلام کرے گا۔
"دابَۃُ
الاَرْض" اس کے بارے میں اتنا جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا
جانور ہوگا جو کوہ صفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا فصاحت کے
ساتھ کلام کرے گا ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشانی لگائے گا ایمان والوں کی پیشانی
پر عصائے موسی علیہ السلام سے نورانی خط کھینچے گا کافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان
علیہ السلام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔(خزائن العرفان ص712، مکتبۃ المدینہ)
2۔
قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا
رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴) وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ
هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶)
ترجمہ
کنز العرفان:جب زمین بڑے زور سے ہلا دی جائے گی۔ اور پہاڑ خوب چوڑا چورا کر دیے
جائیں گے۔ تو وہ ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہو جائیں گے۔(الواقعہ4/5/6، پارہ27)
تفسیر:اس
آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس وقت
زمین تھر تھرا کر کانپے گی جس سے اس کے اوپر موجود پہاڑ اور تمام عمارتیں گر جائیں
گی اور یہ اپنے اندر موجود تمام چیزیں باہر آجانے تک کانپتی رہے گی اور پہاڑ چوڑا
ہو کر خشک ستو کی طرح ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ اور وہ اس وجہ سے ہوا میں بکھرے ہوئے
غبار جیسے ہو جائیں گے۔(صراط الجنان، ج9، ص675)
3۔
صور میں پھونکا جانا: وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ
فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ
اللّٰهُؕ-ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ(۶۸) ترجمہ
کنز العرفان:اور صور میں پھونک ماری جائے گی تو جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنی زمین
میں ہے سب بے ہوش ہو جائیں گے مگر جسے اللہ چاہے پھر اس میں دوسری بار پھونک ماری
جائے گی تو اسی وقت وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(الزمر68، پارہ24)
تفسیر:آیت
کے اس پہلے حصے میں پہلی بار صور پھونکنے کا بیان ہے اس سے جو بے ہوشی طاری ہوگی
اس کا یہ اثر ہوگا کہ فرشتوں اور زمین والوں میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے اور
ان پر موت نہ آئی ہوگی تو وہ اس سے مر جائیں گی۔پہلی مرتبہ صور پھونکنے کے بعد آسمانوں
میں اور زمینوں پر موجود تمام فرشتے اور جاندار مر جائیں گے البتہ جسے اللہ تعالی
چاہے گا اُسے اس موت نہ آئے گی۔
آیت
کے دوسرے حصے میں دوسری بار صور پھونکے جانے کا بیان ہے جس سے مردہ زندگی کیے جائیں
گے اس طرح کہ وہ اپنی قبروں سے زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے وہ حیرت میں آکر
مبہوت(دنگ) شخص کی طرح ہر طرف نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے۔(صراط الجنان، ج8،
ص503/504)
4۔
دل دہلا دینے والا دن: اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا
الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳) یَوْمَ یَكُوْنُ
النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ
الْمَنْفُوْشِؕ(۵)
ترجمہ
کنز العرفان:وہ دل دہلا دینے والی۔ وہ دل دہلا دینے والی کیا ہے اور تجھے کیا
معلوم کہ وہ دل دہلا دینے جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔اور پہاڑ
رنگ برنگی دنگی ہوئی اون کی طرح ہوں گے۔
اس
آیت کریمہ میں بھی اللہ کریم نے قیامت کی ہولناک کی شدت اور دہشت کا تذکرہ فرمایا
ہے۔
قارئین
کرام! آپ نے چند آیاتِ کریمہ کا مطالعہ کیا کہ جس میں قیامت کے احوال کا تذکرہ
موجود ہے قرآن کریم کے بیان کردہ یہ احوال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قیامت کا دن یقینی
ہے دنیا عارضی ہے اصل کامیابی آخرت کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے حاصل
ہوگی۔ ہمیں ان آیات کریمہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اپنی زندگیوں کو اللہ اور
اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami