یہ دنیا فانی ہے اور ایک نہ ایک دن یہ دنیا ختم ہو گی ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہوگا ۔ اللہ عزوجل قرآن مجید میں انسان کو بار بار اس حقیقت سے آشنا کرتا ہے اور یاددہانی کرواتا ہے ۔ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ایک دن اس کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے تمام تر اعمال کا جواب دینا ہے ۔ قرآن مجید احوالِ قیامت کو ذکر کرتے ہوئے کہیں تو اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے اور کہیں مومنین کو ملنے والی نعمتوں کی بشارت دیتا ہے ۔ اسی موضوع پر مشتمل چند آیات ذیل میں مذکور ہیں :

(1) قیامت کی ہولناکیاں: اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵) ترجمۂ کنز العرفان:جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔(سورۃ الانفطار آیات 1 تا 5)

تفسیر صراط الجناناِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا: اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کے اَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶، خازن، الانفطار، تحت الآیۃ: ۱-۵، ۴ / ۳۵۸، ملتقطاً)

(2)قیامت کا زلزلہ: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ(۱) ترجمۂ کنز العرفان ::جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے۔(سورۃ زلزال آیت نمبر 1)

تفسیر صراط الجناناِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا: جب زمین تھرتھرا دی جائے گی جیسے اس کا تھرتھرانا طے ہے: ارشاد فرمایا کہ جب زمین اپنے زلزلے کے ساتھ تھرتھرا دی جائے گی اور زمین پر کوئی درخت ،کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ باقی نہ رہے گا حتّٰی کہ زلزلے کی شدت سے ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔زمین کا یہ تَھرتھرانا اس وقت ہو گا جب قیامت نزدیک ہو گی یا قیامت کے دن زمین تھر تھرائے گی۔ (خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۰۰)

قیامت کا زلزلہ کتنا ہولناک ہے اس کے بارے میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱) یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو ،بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھو گے (تو یہ حالت ہوگی کہ)ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔(الحج،1،2)

(3)اعمال کی سزا و جزا: سورۃ زلزال کے اندر اللہ پاک نے قیامت کی ایک اور حالت کے بارے میں بیان فرمایا کہ انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں حساب دینا ہوگا فرماتا ہے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ترجمۂ کنز العرفان:توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔ (سورۃ زلزال آیت نمبر 8،9)

تفسیر صراط الجنانوَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ: اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ مَا فرماتے ہیں کہ ہر مومن اور کافر کو قیامت کے دن اس کے نیک اور برے اعمال دکھائے جائیں گے، مومن کو اس کی نیکیاں اور برائیاں دکھا کر اللہ تعالیٰ برائیاں بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اور کافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ وہ کفر کی وجہ سے ضائع ہوچکیں اور برائیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔

حضرت محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تو وہ اس کی جزا دنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی برائیوں کی سزا دنیا میں پائے گا تو آخرت میں اس کے ساتھ کوئی برائی نہ ہوگی۔بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے پہلی آیت مومنین کے بارے میں ہے اور یہ آیت کفار کے بارے میں ہے۔( خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۴ / ۴۰۱، مدارک، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۶۸، ملتقطاً)

قرآنِ کریم میں قیامت کے احوال کا بیان فقط خبر نہیں بلکہ تنبیہ اور نصیحت ہے۔ ان آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ قیامت کے ہولناک احوال پڑھ کر مومن کے دل میں خوف بھی جاگتا ہے اور امید بھی کہ اگر وہ ایمان اور نیک اعمال کے ساتھ زندگی گزارے گا تو ختم نا ہونے والی کامیابی اس کا مقدر بنے گی۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قرآن کے ان بیانات کو پڑھ اور سن کر غفلت کی نیند سے جاگیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، اور اس دن کی تیاری کریں ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ