مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت محمد اسلم،منڈی بہاء الدین پنجاب پاکستان
پچھلی
کچھ دہائیوں سے مغربیت تمام دنیا پر چھائی ہوئی ہے۔افسوس ناک یہ ہے کہ تقریباً تمام عالمِ اسلام مغربی کلچر کا لبادہ اوڑھنے کی طرف گامزن ہے۔
کفار کی مادی ترقی کو دیکھ کر عالمِ اسلام کی آنکھیں چندھیائی ہوئی ہیں ۔مسلم
ممالک ان کی ترقی کی اصل وجوہات اور ان کفار کے اخروی انجام کو سمجھے بغیر ،مغرب کے ظاہری کلچر کو ترقی
کا سبب جانتے ہیں حالانکہ یہ تو وہ ہیں جو سر درد کو آسیبی بیماری خیال کرتے اور جوتے مار کر علاج کرتے ۔ان کے
پاس تمام علوم مسلمانوں کے چوری شدہ ہیں اور یہ لوگ مسلمانوں کی تحقیقات و علوم کو ترجمہ کر کے اپنے ناموں سے شائع کرواتے ہیں۔مسلمان
اپنی ترقی کے لیے اسلامی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر مغربی رسوم و رواج کو اپنانے کی
تگ و دو میں ہیں۔مگر بجائے ترقی کے تنزلی کے گڑھوں میں گرتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ
یہ بات تو ظاہر ہے آفتاب مغرب کی طرف مائل ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر زبردست آب
و تاب کے باوجود ڈوب جاتا ہے ۔لہٰذا تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اسلام پر عمل کرتے
رہے تمام دنیا پر چھائے رہے۔طب، سائنس ،ریاضیات،جغرافیہ،فلکیات غرض ہر میدان میں
کارنامے دکھائے مگر جب سے دین کو چھوڑا تو
کوئی خاطر خواہ ترقی ہونے کے بجائے در بدر رسوا ہیں ۔
نہ دین کے رہے نہ دنیا کے
نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن
اسلام دشمن مفکروں نے مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے
فکر پیش کی کہ مغرب کو ترقی اس طرح ملی کہ انہوں نے مذہب اور سائنس کو دو الگ الگ
چیزیں سمجھا ۔مسلم عوام میں سے دین میں ڈانواں ڈول لوگوں نے اس سوچ کو قبول کیا،دین
سے ہٹ کر ترقی کی راہیں دیکھنے لگے اور دینِ اسلام کے متصادم اصول بنائے لیکن سر توڑ
کوشش کے باوجود خاطر خواہ ترقی حاصل نہیں
کر پا رہے ۔
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآن ہو کر
ایک اہم
المیہ مخلوط مغربی کلچر ہے جس کی نقالی مسلم ممالک میں کی جارہی ہے ۔مخلوط کلچر میں
اسلام کی بہت سی حدود کو پامال کیا جاتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بےپردگی عام ہو
رہی ہے اور شرم و حیا کا تصور ہی ختم ہو
رہا ہے۔اللہ ورسول ﷺکی ناراضی کے علاوہ دنیاوی نقصان بھی کثیر ہیں مثلاً: نا جائز
بچوں کی پیدائش ، طلاق کی شرح میں اضافہ ،مختلف قسم کے خطرناک ایڈز مثلاً:HIV ایڈز وغیرہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔لڑکے لڑکیوں کے میل ملاپ سے نا جائز
تعلقات پیدا ہوتے ہیں،پھر بلیک میلنگ کا سلسلہ چلتا ہے جس کا انجام یا تو مزید
بدکاری ہوتا ہے یا پھر خودکشی کے کیسز بڑھتے ہیں ۔
مسلمان
عورت مغربی عورت کی عیاشی،فحاشی و عریانی اور نام نہاد آزادی کو دیکھ کر اپنی آزادی کی رٹ لگانے میں مصروف ہے۔مسلمان
عورت سمجھتی ہے کہ آدھے کپڑے پہن لینا آزادی ہے ۔وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی
کہ مغربی عورت کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔عورت مرد کے شانہ بشانہ
ہونے کے شوق میں حیا کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر بے پردہ ہو کر باہر نکلتی
ہے۔انسانی صورت میں شیطان اسے ہڑپ کرنے کے
لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں نتیجتا ًریپ اور
زیادتی کے کیسز بنتے ہیں، کچھ کیسز کو دبا دیا جاتا ہے،کچھ نیوز چینلز پر چلتے ہیں
اور غیرت و عزت کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں پھر یہ عورت انصاف کی بھیک مانگتی نظر آتی
ہے ۔ آئے روز اولڈ ہاؤسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اسلامی تعلیمات سے واقف نہ
ہونے کی وجہ سے مغرب کی دیکھا دیکھی والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑا جا رہا ہے ۔وہ
اولاد جس کو والدین کا سہارا بننا تھا اور والدین نے اسے بڑھاپے کے سہارے کے لیے
پال پوس کر جوان کیا وہ انہیں سسکتا ہوا اولڈ ہاؤس میں چھوڑ آتی ہے۔پھر تنہائی کے
احساس کو ختم کرنے کے لیے ڈھیروں رقم کے عوض کتے کو ساتھی بنا لیا جاتا ہے۔اسلامی
جمہوری نظام کو چھوڑ کر معیشت کی بہتری کے لئے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام اپنایا گیا جس سے معاشرے میں مسلسل عوام کا
استحصال کیا جاتا ہے نتیجتاً امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔اس
نظام کے تحت خوشحال معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتا کیونکہ درحقیقت فرد کی ترقی ہی کسی
ملک یا معاشرے کی ترقی ہے ۔
پچھلے
دنوں ایک رپورٹ کے تحت پتا چلا کہ کسی کافر ملک میں بہت ساری دمیں(tail
)بیچی گئیں جو انسانوں کے لئے بنائی گئی تھیں۔
انگریز ڈارون کے نظریے کی پیروی کرتے ہیں جس کے
مطابق انسان بندر سے وجود میں آیا لہٰذا یہ دُمیں لگانے والے اپنی اصل (جو ان کے
نزدیک ایک جانور ہے)کی طرف لوٹ رہے ہیں اس
سے اور دیگر بہت ساری ابحاث سے ظاہر ہوتا
ہے کہ یہ کفار کس حد تک گرے ہوئے لوگ ہیں۔ابھی صرف یہ پستی ان کا مقدر نہیں بلکہ
دوزخ کے گہرے کنویں میں ابدی سزا ان کے کفر کا بدلہ ہے ۔رہا ان کا مادی قوت میں
برتری کاہونا تو اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَنْ كَانَ یُرِیْدُ
الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ
جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَۚ-یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۱۸) وَ مَنْ اَرَادَ
الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ
سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)(پ15،بنی اسرائیل:19،18)ترجمۂ
کنزُالعِرفان:جو جلدی والی (دنیا)چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں
جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ
مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے
جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی
جائے گی۔
ایک
اور آیت میں ارشاد فرمایا:قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ
اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ
اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ(۱۵)(پ3،ال عمرٰن:15)کنزُ العِرفان:
(اے حبیب!)تم فرماؤ،(اے لوگو!)کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں؟ (سنو،وہ
یہ ہے کہ)پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں
ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور(وہاں)پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور
اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
Dawateislami