مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت شفاقت علی، پاکپوره جیل روڈ سیالکوٹ
دینِ
اسلام ایسا پاکیزہ مذہب ہے جو انسانی زندگی سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کی
صلاحیت رکھتا ہے۔اس دین کا سب سے نمایاں امتیاز یہ ہے کہ اللہ پاک کے رسول ﷺ نے
اپنی حیاتِ مبارکہ میں تمام مسائل کو عملی جامہ پہنا کر آنے والی اُمتِ مسلمہ کے لیے
مکمل ہدایت فراہم کی لیکن صد افسوس کہ دنیا میں چند ایسی ماڈرن تہذیبیں جنم لے چکی
ہیں جو اسلامی شاہراہ سے بالکل ہٹ کر ہیں،انہی میں سے آج کی مغربی تہذیب بھی ہے جو
اپنی ظاہری جاذبیت اور دلکشی کے باعث پوری دنیا
کا محور بن چکی ہے جس کے نقصان دہ
اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اور جیسا کہ مغربی طرز کے لباس جیسے جینز، ٹی شرٹس
وغیرہ کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کا بھی بہت غلط استعمال ہو رہا
ہے جو مغربی تہذیب کو فروغ دے رہا ہے اور لوگوں کا رہن سہن بھی مغربی طرز کے مطابق
ہو رہا ہے، مغربی طرز کے تعلیمی نظام کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے،لوگوں کی نظر میں
اسلامی تعلیمی نظام کی اہمیت کم ہو رہی ہے،مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے ہماری
اخلاقیات پر برا اثر پڑ رہا ہے،ہمارے معاشرے میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے،لوگوں کے درمیان
تعلقات خراب ہو رہے ہیں،لوگ دین سے دور ہو رہے ہیں،ہمارے نواجوان گمراہ ہو کر اپنی
زندگی کے مقاصد کو بھول رہے ہیں۔اسی طرح آج کل غیر مسلموں کی نقالی کر کے یکم اپریل
کو اپریل فول یعنی جھوٹ کا تہوار منایا جاتا ہے جو شرعی طور پر بالکل غلط ہے۔اکثر
اس موقع پر جو مذاق کیے گئے ان کے اثرات منفی ہی ظاہر ہوئے اور لوگوں کو نقصان کا
سامنا بھی کرنا پڑا ۔اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَنَّ هٰذَا
صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ
فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۵۳)(پ7،الانعام:
153)ترجمہ: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اس پر چلو اور
دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ راہیں تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گی ۔ تمہیں
یہ حکم فرمایا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ۔
یہاں دوسرے راستوں سے مرادوہ راستے ہیں جو اسلام کے خلاف
ہوں یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملت۔لہٰذا اگر تم اسلام کے خلاف راستے پر
چلے تواللہ پاک کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔صوفیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے
ہیں کہ معاملات کی خرابی عبادات کی خرابی تک پہنچا دیتی ہے اور عبادات کی خرابی
کبھی عقائد کی خرابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ترک ِمستحب ترک ِسنت کا اور ترک ِسنت ترک
ِفرض کا ذریعہ ہے چور کو پہلے دروازے پر ہی روکو۔ (تفسیر صراط الجنان،3/245)
Dawateislami