مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید ایک ایسا رجحان ہے جو رفتہ رفتہ ہماری دینی،اخلاقی اور
معاشرتی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔ترقی اور جدت کے نام پر جب بغیر سوچے سمجھے
مغرب کے طور طریقے اپنائیں جائیں تو اس کے کئی منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔
دینی کمزوری:اندھی تقلید سے سب سے پہلا نقصان دین
پر پڑتا ہے،یوں کہ عبادات میں سستی،حیا میں کمی اور حلال و حرام کی تمیز ختم ہونے
لگتی ہے۔
اخلاقی زوال:مغربی
معاشرے میں آزادی کے نام پر بے حیائی،فحاشی اور اخلاقی حدود کی پامالی عام ہے لیکن جب یہ رجحانات ہمارے معاشرے میں آتے ہیں تو
شرم و حیا،ادب و احترام اور خاندانی اقتدار کمزور ہو جاتے ہیں۔
خاندانی نظام کی تباہی:مغربی
تہذیب کے طرزِ زندگی کی نقالی سے والدین کی نافرمانی،شادی میں تاخیر،طلاق کی کثرت
اور خاندان کا شیرازہ بکھرنے لگتا ہے حالانکہ اسلام خاندان کو معاشرے کی بنیاد
قرار دیتا ہے۔
تہذیبی
شناخت کا خاتمہ:اپنی زبان،لباس،روایات اور اقدار سے شرمندگی محسوس کرنا اندھی تقلید کا نتیجہ
ہے۔قومیں جب اپنی شناخت کو کھو دیتی ہیں تو دوسروں کی غلام بن جاتی ہیں۔جب انسان
دین سے دور ہو کر صرف خواہشات کا غلام بن جاتا ہے تو دل کا سکون ختم ہو جاتا ہے،اس
لیے آج ڈپریشن،بے چینی اور خود کشی جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں حالانکہ حقیقی سکون
اللہ پاک کے ذکر میں ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں تعلیم کا مقصد کردار سازی
کے بجائے صرف دولت کمانا اورعلم نفع کے بجائے فتنہ بن جاتا ہے۔ طالبِ علم اخلاق و ادب
اور ذمہ داری سے محروم ہو جاتے ہیں۔لباس،میل جول اور آزادی کے نام پر بے اعتدالی
معاشرے میں جرائم،بد اعتمادی اور بے راہ روی کو جنم دیتی ہے۔جب ہر انسان اپنی
خواہش کو قانون سمجھے تو معاشرہ نظم سے محروم ہو جاتا ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی
تقلید انسان کو امت کے اجتماعی دکھ درد سے
بے پروا کر دیتی ہے اور وہ امتِ مسلمہ کے مسائل کے بجائے ذاتی آسائش اور مغربی طرزِ
زندگی میں گم ہو جاتا ہے۔ جب دین پر چلنے میں فخر کی بجائے شرمندگی محسوس ہونے لگے
تو غیرتِ ایمانی ختم ہو جاتی ہے۔مغربی رسم و رواج،مہنگی تقریبات اور غیر اسلامی
توقعات نکا ح کو مشکل اور گناہ کو آسان بنا دیتی ہیں جس سے معاشرے میں بے راہ روی بڑھتی ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرنے
والا انسان دین کی بات کو اپنی ترقی میں رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے،یوں دعوت و اصلاح کا
فریضہ پسِ پشت چلا جاتا ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں دینی مجالس،علمِ دین
اور اہلِ علم کی صحبت بوجھ محسوس ہونے
لگتی ہے جس سے جہالت بڑھتی ہے۔تفریح اور مصروفیات اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ عبادت اور خاندانی حقوق پسِ منظر میں چلے جاتے
ہیں۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نقصان دہ ہے۔اسلام سکھاتا ہے کہ ترقی اور مفید
چیزیں اپنائیں مگر اپنی ایمانی،اخلاقی اور ثقافتی شناخت کو ہمیشہ برقرار رکھیں
کیونکہ بصیرت،اعتدال اور تعمیری سوچ کے
ساتھ زندگی گزارنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔