مغربی
تہذیب کی اندھی تقلید کے نتائج از بنت محمد پرویز اقبال،فیضان ام عطار گلبہار
سیالکوٹ
آ ج
دنیا میں دیکھا جائے تو ہر طرف زیادہ تر غیر مسلم کے رسم و رواج اپنائے جارہے ہیں
ہمارے کھا نے،پینے،کسی سے ملاقات کرنے،رہن سہن یہاں تک کہ ہمارے گفتگو کرنے کے انداز میں
بھی غیر مذہبوں کے طریقے کار آ چکے ہیں۔مسلمان بھی غیر مذہب والوں کی مشابہت کرتے
ہیں۔ نوجوان نسل کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم بھی ان کی طرح نظر آئیں ،ان کی طرح کے
فیشن اپنائیں اور ہم لوگوں میں نمایاں نظر آئیں جس کی وجہ سے آج دنیا میں بہت برے
نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پہلا نتیجہ:اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتاہے:وَ لَا تَقْرَبُوا
الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ15،بنی
اسرائیل:32 ) ترجمہ کنز الایمان:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور
بہت ہی بری راہ۔
دیکھا
جائے تو سنت کے مطابق لباس پہنا بہت کم ہو چکا ہے اور زیادہ لوگ غیر مذہب والوں کے
لباس اپناتے ہیں جس کی وجہ سے بے حیائی والے فیشن عام ہوتے جارہے ہیں جبکہ فرمانِ
مصطفےٰ ﷺہے:جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نےمجھ سے محبت
کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔(مشکاۃ المصابیح،1/55، حدیث: 175)
لوگ
بغیر دیکھے،بغیر سمجھے مغربی تہذیب کے رسم و رواج اپناتے ہیں کہ ان کو ذرا بھی یہ
گمان نہیں ہوتا کہ ہم یہ رسم و رواج نہیں اپنا رہے بلکہ دینِ اسلام سے دور ہو رہے
ہیں۔
دوسرا نتیجہ:ہمارے
پیارے دینِ اسلام نے اس بات کی ممانعت کی ہے کہ بد مذہبوں سے دو ستی یا محبت نہ
رکھی جائے کہ جب ان سے دوستی ہو گی تو ان کی محبت بھی دل میں جگہ لے گی اور آہستہ
آہستہ ہم ان کی طرف مائل ہونا شروع ہو جائیں گی اور ان کے طریقے کار کی پیروی کرنے
لگ جائیں گی۔
کفار
کے ساتھ دوستی کرنے کا حکم: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ
حضرت سید سلیمان اشرف بہاری کے قلم سے ملاحظہ ہو: کافر کے ساتھ دلی دوستی اور قلبی
محبت کفر ہے اس حکم میں کفار و ہند اور کفار و یورپ سب مساوی ہیں۔( النور ،ص104) دیکھا
جائے تو شادیوں میں مغربی تہذیب کی نقل کی جاتی ہے جیسے:گانے بجانے وغیرہ ،دلہن کی
انٹری کروائی جاتی ہے،لڑکیاں پردہ کرنے کے بجائے غیر مسلم لڑکیوں کی طرح بے حیائی
والے کپڑے پہنتی ہیں، لڑکے سنت کے مطابق داڑھی رکھنے کے بجائے داڑھی منڈوا کر
پھرتے ہیں،یورپی ممالک ہمیں روشن خیالی کا ذہن دیتے ہیں،اس میں کتنا بڑا نقصان ہے یہ
تو کوئی با شعور اور اپنے دین سے محبت کرنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔ اپنے دین کا
نقصان ہو گا تو اس سے بڑھ کر تو کوئی برا نقصان یا نتیجہ نہیں ہوسکتا یعنی اس کا
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مغربی تہذیب کی نقل کرنے سے ہمارے دین کو بلندی حاصل نہیں
ہوگی بلکہ دین میں کمی واقع ہو گی اورمسلم
تحریک کے بجائے غیر مسلم تحریک دنیا پر حکومت کرے گی ۔
Dawateislami