تہذیب سے مراد کسی قوم یا معاشرے کا وہ مکمل طرزِ زندگی ہے جس میں اس کے رہن سہن، لباس، زبان، رسم و رواج، اخلاق،سوچ، تعلیم اور معاشرتی اقدار شامل ہوتی ہیں۔ یہ تمام چیزیں کسی قوم کی پہچان ہوتیں ہیں اور اسی سے اس کے افکار اور کردار کی تشکیل ہوتی ہے اور معاشرہ کس راہ پر ہے یہ واضع ہوتا ہے۔

مغربی معاشرے نے جہاں سائنس کی دنیا میں قدم رکھ کر انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں،وہیں اخلاقی اقدار اور روحانی قدروں سے دوری کے باعث کئی سماجی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔

آج کا مسلمان معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید عام ہوتی جا رہی ہے،جس کے منفی اثرات ہماری اخلاقی، سماجی اور دینی زندگی پر نمایاں ہو رہے ہیں۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِـعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَاؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(۱۷۰)(پ2،البقرۃ:170)ترجمہ کنز الایمان:اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت۔

انسان جب اللہ کریم کے بتائے ہوئے احکام کے بجائے باپ داد یا کسی غالب تہذیب کی اندھی تقلید میں لگ جاتا ہے تو فکری گمراہی کو پروانا چڑھتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ یعنی جوکسی قوم سے مشابہت اختیار کرے گا تووہ انہی میں سے ہو گا۔ (ابو داود، 4/62،حدیث:4031)

کہا جاتا ہے کہ جو اپنی مدد آپ کرتا ہے اللہ پاک اس کی مدد کرتا ہے لیکن جب ایک انسان اپنی پہچان خود نہ بنائے بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرے تو یہ اس کو اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات سے ہٹ کر مغربی سوچ کو حق و باطل کا معیار بنا دیتی ہے، جس سے صحیح اور غلط میں تمیز ختم ہو جاتی ہے،پھر جو تنائج سامنے آتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :

1: دینی اقدار سے دوری:مغربی تہذیب کی نقالی کے نتیجے میں نماز،پردہ، حیا اور حلال و حرام کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ دینی اعمال سے غافل ہو جاتا ہے،اسے شخصی آزادی کا نام دیا جاتا ہے۔

2: اخلاقی زوال:بے حیائی،خود غرضی،جھوٹ،والدین کی نافرمانی اور بد تمیزی جیسی اخلاقی برائیاں عام ہو جاتی ہیں، جن سے معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے ۔

3:خاندانی نظام کی کمزوری:مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے باعث بڑوں کا احترام ختم ہو جاتا ہے،والدین اور اولاد میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔

4: تہذیبی و ثقافتی شناخت کا خاتمہ:اپنی زبان،لباس اور اسلامی روایات کو چھوڑ کر مغربی طرزِ زندگی اپنانے سے قوم کی اپنی پہچان مٹنے لگتی ہے اور احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے۔

5: معاشرتی بے سکونی:

مادہ پرستی اور خواہشات کی پیروی کے باعث قناعت ختم ہو جاتی ہے،جس سے حسد، مقابلہ بازی اور معاشرتی انتشار بڑھتا ہے۔

6: ایمانی کمزوری:غیروں کی مشابہت اختیار کرنے سے ایمان کمزور ہوتا ہے۔مغربی تہذیب کی اندھی تقلید دینی، اخلاقی اور معاشرتی تباہی کا سبب بنتی ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی اسلامی تہذیب اور اقدار کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔افسوس!آج مسلمان مغرب کی تقلید کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں حالانکہ ترقی لباس کی خاص وضع اور عورتوں کو بے پردہ کردینے میں نہیں بلکہ کامیابی کا راستہ صراطِ مستقیم ہے ۔

غیر مسلموں کی نقالی دلوں کو سیاہ کر دیتی ہے اور آہستہ آہستہ انسان دین سے دور ہو جاتا ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی پہچان اسلامی رکھیں۔کیونکہ کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا نا جائز اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا۪-وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ(۶) (پ7، الانعام:6)ترجمہ کنز الایمان:کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا اور ان کے نیچے نہریں بہائیں تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی۔

اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دنیوی خوشحالی ،مال و دولت اور سہولیات کی کثرت اللہ پاک کی رضا مندی کی علامت نہیں ورنہ قارون بہت بڑا مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہوتا۔یہاں سے ان لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی دنیوی ترقی، سائنسی مہارت،سہولیات کی کثرت،ایجادات کی بہتات، مال و دولت کی فراوانی دیکھ کر انہیں بارگاہِ الٰہی میں مقبول اور مسلمانوں کو مردود سمجھتے ہیں اور اخلاق و کردار میں مسلمانوں کو کفار کی تقلید کامشورہ دیتے ہیں۔ کفار کی یہ دنیوی کامیابی مقبولیت کی نہیں بلکہ مہلت کی دلیل ہے کیونکہ اللہ پاک کا قانون ہے کہ وہ کافروں کی جلد پکڑ نہیں فرماتا بلکہ انہیں مہلت دیتا اور آسائشیں عطا فرماتا ہے،پھر انہیں اپنے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔نیز نام نہاد دانشور،مسلمانوں کو مغربی ممالک کی اندھی تقلید کا نہ ہی فرمائیں تو بہتر ہے اور وہ اپنی قارونی سوچ اپنے پاس ہی رکھیں۔(تفسیر صراط الجنان،3/69)

ترقی کے نام پر مغربی تہذیب کی اندھی تقلید انسان کو وقتی ترقی تو دے سکتی ہے مگر اسلام کی روشن تعلیمات سے محروم کر دیتی ہے۔ایک مسلمان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ علم و سائنس سے فائدہ اٹھائے مگر اپنی اسلامی شناخت اور اخلاقی اصولوں کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔قرآن و سنت کی راہ نمائی سے منہ موڑ کر کسی بھی غالب تہذیب کی اندھی پیروی معاشرتی زوال کی طرف لے جاتی ہے۔

اسی حقیقت کو شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبال نے نہایت بلیغ انداز میں تمثیلاً یوں بیان کیا ہے:

یہی درس دیتا ہے ہر شام کا ڈوبتا سورج

کہ مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے

لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ترقی اور جدید سہولیات کو اختیار کرتے ہوئے بھی اپنی دینی اور تہذیبی بنیادوں کو محفوظ رکھیں کیونکہ حقیقی کامیابی اسی میں ہے۔رب کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اسلامی اقدار کی حفاظت کرنے والی بنادے۔ آمین