اللہ پاک نے مسلمانوں کو بہترین امت بنایا ہے جس کی اساس بلند اخلاق اور حیا پر ہے ۔ ارشادِ باری ہے:كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(پ 4، الِ عمرٰن:110)ترجمہ: (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لئے ظاہر کی گئی۔

لیکن موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ مغربی زندگی ہے، جہاں اپنی روشن روایات کو چھوڑ کر اغیار کی نقالی کو ترقی کا زینہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ اندھی تقلید محض لباس یا وضع قطع تک محدود نہیں بلکہ ہمارے عقائد اور معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

حیا کا جنازہ اور اخلاقی پستی:مغربی تہذیب کی تقلید کا سب سے پہلا وار ہماری حیا پر ہوا ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:اَلْحَيَاءُ مِنَ الْاِيمَانِ یعنی حیا ایمان کا حصہ ہے۔

( بخاری، 1/ 19، حدیث: 24)

مغرب نے آزادیِ اظہار اور فیشن کے نام پر بے پردگی اور اختلاطِ مرد و زن کو فروغ دیا۔ جب معاشرے سے حیا اٹھ جائے تو اخلاقی اقدار خود بخود دم توڑ دیتی ہیں۔مکتبۃ المدینہ کی کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب میں اس بات کی وضاحت ملتی ہے کہ کس طرح غیر شرعی فیشن کی پیروی انسان کو گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔

خاندانی نظام کی تباہی :مغربی معاشرہ انفرادیت پسندی کا شکار ہے جہاں خونی رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔وہاں والدین کو اولڈ ہومز بھیجنا ایک معمول ہے۔ ہم نے جب ان کی طرزِ زندگی کو اپنایا تو ہمارے ہاں بھی مشترکہ خاندانی نظام بکھرنے لگا۔امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتب میں والدین کی اطاعت اور رشتوں کے احترام پر بہت زور دیتے ہیں۔ مغربی تہذیب کی تقلید نے ہمیں اپنوں سے دور کر کے نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، کیونکہ سکون اپنوں کی خدمت اور قربت میں ہے، نہ کہ غیروں کے کلچر میں۔

ذہنی غلامی اور احساسِ کمتری: کسی دوسری قوم کی اندھی تقلید در اصل اپنی شناخت سے محرومی اور ذہنی مغلوبیت کی علامت ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ رضویہ میں کئی مقامات پر کفار کی مشابہت سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔مغرب کی سائنسی ایجادات سے فائدہ اٹھانا الگ بات ہے، لیکن ان کے طرزِ حیات کو اپنا لینا ایک ایسی ذہنی غلامی ہے جو انسان کو اپنے دین پر فخر کرنے سے روک دیتی ہے۔

حاصلِ کلام :مغربی تہذیب کی اندھی تقلید زہرِ قاتل ہے۔اگر ہم نے قرآن و سنت کے دامن کو مضبوطی سے نہ تھاما اور اپنے بزرگانِ دین کی سادہ اور پروقار زندگی کو مشعلِ راہ نہ بنایا تو ہماری آنے والی نسلیں اپنی پہچان کھو دیں گی۔ حقیقی کامیابی مغرب کی نقالی میں نہیں بلکہ اتباعِ مصطفےٰ میں پنہاں ہے۔ اللہ پاک ہمیں اسلامی تہذیب کو اپنانے اور اغیار کی مشابہت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین