کربلا درس زندگی ہے: اے عاشقان رسول یقیناً کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ مگر یاد رکھیے کربلا صرف ایک سانحہ نہیں۔ سانحے تو دنیا میں بہت سے ہوئے ہیں ظلم وستم کی بڑی بڑی داستانیں اس زمین میں قائم ہوئیں۔ مگر وہ سب مٹ گئیں آج لوگوں کے دل ودماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں اگر کربلا صرف سانحہ ہوتا تو تقریباً 1 ہزار 3 سو 82 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا لہذا کربلا ایک سانحہ نہیں یہ درس زندگی کی ایک پوری کتاب ہے۔

واقعہ کربلا ہمیں کامیابی کے راستے بھی بتاتا ہے ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے عظمت و شان سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔

یزید کی بری عادتیں: امام حسین رضی اللہ عنہ کے خطبے سے یزید کی جو 7 بری عادتیں معلوم ہوتی ہے ان میں سے چند یہ ہے یزید فاسق تھا شرابی تھا ظلم تھا یزید رحمن کی اطاعت چھوڑ کر شیطان کی پیروی کرتا تھا۔ (تاریخ طبری، 3/306 ملخصاً)

گناہوں کی نحوست: اب ہم اپنے کردار پر غور کریں کہ یزید فاسق ( جو اعلانیہ گناہ کرتا ہے) تھا ہم میں سے کتنے ہیں جو گناہ تو کرتے مگر افسوس اس کا اعلان بھی کرتے ہیں، واقعہ کربلا کا درس یہ ہے کہ اصل حسینی ہونا اسی کو کہاجاتا ہے کی ہم گناہوں سے بچیں۔ اللہ پاک ہم گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

امام حسین کے اس فرمان ”یزید رحمن کی اطاعت چھوڑتا اور شیطان کی پیروی کرتا ہے“ اگر اس پر غور کریں تو نماز پڑھنا رحمن کی اطاعت اور نہ پڑھنا شیطان کی پیروی۔ ہم اپنا محاسبہ کریں کیا ہم نماز پڑھتے ہم روزے رکھتے ہیں جھوٹ غیبت اور چغلی شیطان کی پیروی ہے کیا ہم اس سے بچتے ہیں۔

دنیا پرستی: ایک اہم بات جو واقعہ کربلا سکھاتا ہے کہ یزید بد بخت نے میدان کربلا میں جتنا ظلم کیا یا کروایا یہ سب اصل میں دنیا کی محبت اور لالچ کا نتیجہ تھا، ہمیں آخرت کو کثرت سے یاد کرنا چاہئے تاکہ دل سے دنیا کی محبت نکلے اور نیکیاں کرنے کا ذہن بنے۔

اللہ کی خفیہ تدبیر: ہمیں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا چاہیے کہ مختار ثقفی جس نے چن چن کر یزیدیوں کا صفایا کیا اور محبینِ حسین کے دل جیتے مگر بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے مرتد ہوگیا ہمیں اللہ پاک سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرنی چاہیے۔

امام حسین نے حالتِ جنگ میں بھی نماز نہ چھوڑی لہٰذا ہمیں بھی نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔

اللہ پاک ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں امام حسین کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین