رات کو جاگنا آسان لگتا ہے لیکن نقصان دہ ہے۔رات دیر تک جاگنے سے نیند کا قدرتی چکر خراب ہو جاتا ہے،جسم کے ہارمونز متوازن نہیں رہتے،دماغ صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا،یاد داشت متاثر ہوتی ہے،جلد پر داغ دھبے اور جھریاں جلدی آتی ہیں، وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ،دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ،صبح دیر سے جاگنے کی عادت بیزاری اور تھکن پیدا کرتی ہے، سستی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔لہٰذا  بہتر یہی ہے کہ رات کو وقت پر سوئیں اور دن میں توانائی بڑھائیں ۔

قرآنی آیت:وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠(۶۰)اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۶۱) (پ24،المؤمن:60، 61)ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا بے شک وہ جو عبادت سے اونچے کھنچتے(تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اُس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا بےشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے ۔

حدیثِ مبارک:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک ہر رات آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے جبکہ رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے۔فرماتا ہے:حقیقی بادشاہ تو میں ہی ہوں،حقیقی بادشاہ تو میں ہی ہوں۔ کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معافی دوں؟وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہو جاتی ہے۔

(ترمذی،1/444،حدیث:446)

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ بات ضروری طور پر معلوم ہے کہ قیامت کے دن انسان کو اللہ پاک کی عبادت ہی سے نفع پہنچے گا،اس لیے اللہ پاک کی عبادت میں مشغول ہونا انتہائی اہم کام ہے اور چونکہ عبادات کی اقسام میں دعا ایک بہترین قسم ہے اس لیے یہاں بندوں کو دعا مانگنے کا ارشاد فرمایا گیا۔ اس آیت میں لفظ یدعونی کے بارے میں مفسرین کا ایک قول ہے کہ اس سے مراد دعا کرنا ہے۔اس صورت میں آیت کے معنی ہوں گے کہ اے لوگو!تم مجھ سے دعا کرو میں اسے قبول کروں گا۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عبادت کرنا ہے۔اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرو میں تمہیں ثواب دوں گا۔(تفسیر کبیر،9/527،تفسیر جلالین،ص395،تفسیر نسفی، ص1063 ملتقطاً)

اس سے پہلی آیت میں دعا مانگنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا اور دعا میں مشغول ہونے کے لئے اللہ پاک کی معرفت ہونا ضروری ہے ، اس لئے یہاں ایک قادر معبود کے موجود ہونے پر دلیل بیان فرمائی گئی ہے،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام اور سکون پاؤ ،کیونکہ رات میں ٹھنڈک اور نمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کی حرکت کرنے والی قوتیں رات میں قدرے ساکن ہو جاتی ہیں،نیز رات میں اندھیرا ہوتا ہے جس کی بنا پر انسان کے حواس بھی پوری طرح کام کرنے سے رک جاتے ہیں اور یوں انسان کے اَعصاب اور حواس کو آرام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور اللہ پاک نے تمہارے نفع کے لئے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں اپنے ضروری کام اطمینان کے ساتھ انجام دے سکو ،بیشک رات اور دن کو پیدا کر کے اللہ پاک لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن بہت سے آدمی اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔( تفسیر کبیر،9/528،تفسیر روح البیان، 8 /203ملتقطاً)