رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت محمد ایاز،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
بلا
وجہ رات کو دیر تک جاگنے سے شریعت نے منع فرمایا ہے کیونکہ اس کے دینی و دنیاوی
بہت سے نقصانات ہیں۔ بغیر کسی شرعی وجہ کے رات کو دیر تک جاگنا ایک انتہائی ناپسندیدہ
اور مذموم فعل ہے کیونکہ یہ مشیتِ الٰہی کے خلاف ہے۔اللہ کریم نے رات آرام کے لیے
بنائی ہے تو کوئی اگر بغیر کسی غذر یا شرعی
وجہ کے اس کے خلاف کرے گا تو مکروہ ہو گا جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ
جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ
فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص:
73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں
آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔
تفسیر
صراط الجنان میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ
تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ۔(تفسیر صراط الجنان،7/ 313)
دینی نقصانات:نمازِ فجر میں سستی اور قضا ہونے کا
اندیشہ ، نوافل میں کمی ، دل کا سخت ہو جانا ، توجہ کی کمی کی وجہ سے نماز میں دل
نہ لگنا، صحت کے خراب ہونے کے سبب عبادات میں کمی ، جماعت سے محروم ہو نے کا خطرہ
اور نیکیاں بھاری لگنا۔
دنیاوی نقصان:صحت خراب ہونا،معمولات میں کمی،سستی کے
سبب اہم کاموں سے محرومی یااچھے انداز میں مکمل نہ کرپانا، اعتماد میں کمی ، دل کی
بیماریاں ، شوگر اور ہارمونز وغیرہ کا مسئلہ ،بے چینی اور دماغی بیماریوں کا خطر ہ
رہتا ہے ۔
ہمارا معاشرہ: آج کل ہمارا معاشرہ جہاں اور بہت سے
فضول و بے فائدہ کاموں میں وقت صرف کرتا ہے وہیں رات کو دیر تک جاگنے اور فضول
گفتگو و مجلسوں میں وقت گزارتے ہیں ۔اللہ کریم ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھنے اور نیک
اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami