رات
دیر تک جاگنے کے نقصانات از بنت محمد اصف اقبال، بہار شریعت نواب شاہ
انسانی
زندگی کا دار و مدار صحت اور وقت کے صحیح استعمال پر ہے۔یہ وہ دو نعمتیں ہیں جن سے اکثر لوگ غافل ہیں۔اپنی
صحت کا خیال رکھنا،صحت مند رہنے کے لیے اپنی مصروفیات میں توازن قائم رکھنا،وقت کی قدر کرنا اور ہر کام اپنے وقت پر
کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قرآن و سنت میں
وقت کی قدر اور درست استعمال کی بہت تاکید
آئی ہے۔ اسی میں سے ایک رات میں وقت پر آرام کرنا بھی ہے اور کیوں نہ ہو کہ اللہ پاک نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور دن کو کام کے لیے ۔اللہ پاک قرآنِ
مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹)وَّ جَعَلْنَا الَّیْلَ
لِبَاسًاۙ(۱۰) وَّ جَعَلْنَا
النَّهَارَ مَعَاشًا۪(۱۱) (پ30،النباء:9تا11)ترجمہ
کنزالعرفان:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایااور رات کو ڈھانپ دینے والی بنایااور
دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
یہاں
ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ بنایا تاکہ اس سے
تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و آرام حاصل ہو ،اور کیا ہم نے رات کو ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو
کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے معاملات پوشیدہ رہیں ، اور کیا
ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس میں اللہ پاک کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو۔(تفسیر
صراط الجنان،10/496)
نیز
اللہ پاک فرماتا ہے:وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا
وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷)(پ19،الفرقان:47)ترجمہ کنز العرفان:اور
وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ اور نیند کو آرام بنایااور دن کو اٹھنے کے لیے
بنایا۔
معلوم
ہوا کہ رات کو ہمارے پیارے پروردگار نے آرام و سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے،لہٰذاجب
انسان فطری اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے ، یعنی بلا وجہ رات دیر تک جاگتا ہے تو یہ عمل مجموعی صحت،روز مرہ کی کارکردگی اور
روحانی سکون پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔رات دیر تک جاگنے کے نقصانات وقت کے ساتھ
بڑھتے جاتے ہیں،لہٰذا اس عادت کے خطرات کو سمجھنا ہم سب کے لیے بڑا ضروری ہے۔ یہاں
بعض دینی اور دنیاوی نقصانات بیان کیے
جاتے ہیں۔
(1)دماغی صحت پر شدید اثرات:انسانی دماغ کو نیند کی ضرورت
کسی مشین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رات دیر
تک جاگنے سے دماغی تھکن زیادہ رہتی ہے۔ یاد
داشت میں بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے۔باتیں یاد
نہیں رہتیں،حافظہ کمزور ہو جاتا ہے۔یوں انسان کی روز مرہ زندگی بہت متاثر ہوتی ہے
۔طلبہ و طالبات کو امتحانی تیاری میں
مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔نیز فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہو جاتی ہے۔مسلسل نیند
کی کمی سے ذہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، جیسے ڈپریشن اور اضطراب کا امکان بڑھ جاتا
ہے۔
(2)جسمانی صحت کی خرابی:رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے جسم کے حیاتیاتی
نظام (Biological
system)میں خرابی پیدا ہو تی ہے جس کے سبب درج ذیل بیماریاں پیدا ہو جاتی ہے:
موٹاپا: نیند کے دوران بھوک کا ہارمون کنٹرول ہوتا ہے
جبکہ دیر تک جاگنے والوں میں بے جا کھانا
کھانے کی عادت بنتی ہے۔
امراضِ قلب:بعض تحقیقات
کے مطابق دل کی شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہےجس کی وجہ سے دل صحیح طریقے سے کام نہیں
کر پاتا۔
جِلدی مسائل:
آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، رنگت کا خراب
ہونا اور وقت سے پہلے بوڑھا ہو جانا بھی
اسی کا نتیجہ ہے۔
(3)ذہنی رویّوں میں خرابی:دیر تک جاگنے سے انسان کے مزاج
پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر غصہ آتاہے، ایسا انسان لوگوں
سے بلا وجہ الجھتا ہے ،بے وجہ افسردگی طاری
ہوتی ہے،کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا،نیند پوری نہ ہونے کے باعث گھر والوں نیز اسکول
، کالج ،یونیورسٹی اور آفس کے دوستوں کے
ساتھ تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں ۔
(4)دینی نقصان:راتوں کو دیر تک جاگنے سے ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ فجر کی نماز میں آنکھ نہیں کھلتی۔ایسا
انسان اس عظیم فضیلت سے محروم رہ جاتا ہے۔رات جلدی سونے والا فرض نماز کے ساتھ
تہجد کے لیے بھی جاگ سکتا ہے جبکہ دیر سے
سونے والا نماز ِ تہجد کی برکات حاصل نہیں کرپا تا۔دیر تک جاگنے کا عمل سستی،
کاہلی اور غفلت کو پیدا کرتا ہے۔ ایسا انسان
نہ صرف نفل میں بلکہ فرض نماز میں بھی سستی محسوس کرتا ہے۔
(5)تعلیمی کارکردگی میں کمی:طلبہ و طالبات کے لیے دیر تک
جاگنے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں،مثلاً:پڑھائی میں توجہ کم ہوتی ہے،دماغ تازہ نہ
ہونے کی وجہ سے سبق یاد نہیں رہتا،امتحان میں منفی اثر پڑتا ہے،سستی اور غنودگی سے
کلاس میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ دن میں پڑھایا گیا سبق وہی ذہن اچھی طرح سمجھ اور یاد رکھ سکتا ہے جس نے رات کو مکمل آرام کیا
ہو۔
(6)روزگار اور عملی زندگی پر اثرات:رات دیر تک
جاگنے کے سبب دورانِ ملازمت غفلت و کوتاہی،کام
کے دوران غلطیاں،فیصلے کرنے میں دقت کا
سامنا، وقت پر نہ پہنچنے کی عادت، توانائی کی کمی جیسے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔یہ
مسائل کامیابی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
(7)وقت کا ضیاع:زیادہ تر لوگ رات دیر تک جاگتے ہوئے ایسے
کاموں میں لگ جاتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا جیسے موبائل پر بے مقصد
اسکرولنگ،سوشل میڈیا،گانے باجے اور فلمیں
ڈرامے اور ویڈیو گیمز وغیرہ میں لگے رہنا۔یہ سب کام ڈھیر سارا وقت کھا جاتے ہیں اور انسان کو اس کا
احساس بھی نہیں ہوتا۔
بیان
کردہ نقصانات تو ایک جھلک ہے ورنہ رات دیر تک جاگنے کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔یاد رہے کہ رات دیر تک
جاگنا محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک سنگین نقصان دہ عمل ہے۔یہ انسان کی ذہنی،جسمانی،روحانی،تعلیمی
اور معاشرتی زندگی کو تباہ کردیتا ہے۔ کامیاب، صحت مند اور پرسکون زندگی کے لیے
ضروری ہے کہ انسان فطرت کے اصولوں کے مطابق چلے، رات جلد سوئے، صبح جلدی اٹھے اور
نیند و آرام کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ
بنائے۔
Dawateislami