رات جیسی عظیم نعمت اللہ کریم نے آرام اور سکون کے لیے بنائی ہے۔ قدرت نے دن کو آرام کرنے اور رات کو سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا لیکن آج کے دور میں راتوں کو دیر تک جاگنا ایک فیشن سمجھا جاتا ہے۔رات دیر تک جاگنا بظاہر معمولی سی بات لگتی ہے آج کے دور میں لوگ موبائل فون،سوشل میڈیا اور دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے دیر تک جاگنے کی عادی ہو چکے ہیں  اور اس کے نقصانات پر غور نہیں کرتے۔قرآنِ پاک اور حدیثِ مبارک سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رات آرام کے لیے ہے نہ کہ جاگنے کے لیے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳) (پ20،القصص: 73)ترجمہ کنز الایمان:اور اس نے اپنی مہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل ڈھونڈ و اور اس لئے کہ تم حق مانو۔

تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ۔(تفسیر صراط الجنان،7/ 313)

حدیثِ پاک میں ہے:رسول اللہ ﷺ عشا سے پہلے سونے اور عشا کے بعد بلا ضرورت باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔(بخاری،1/201، حدیث:547)

قرآن حدیث دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رات کو آرام کے لیے بنایا گیا اور بلا ضرورت رات دیر تک جاگنا ناپسندیدہ ہے۔رات دیر تک جاگنا کئی بیماریوں میں مبتلا کرتا ہے اور بہت صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔

جسمانی نقصانات:رات دیر تک جاگنے سے جسمانی کمزوری پیدا ہوتی ہے،انسان ہر وقت خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے،آنکھوں کی کمزوری،تھکن،بدہضمی جیسی کئی بیماریاں انسان کی صحت کو متاثر کرتی ہیں،مسلسل جاگنے سے دل اور اعصابی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔

ذہنی اور تعلیمی نقصانات:نیند کی کمی سے ذہنی صلاحیت متاثر ہوتی ہے،یاداشت کمزور ہو جاتی ہے،توجہ منتشر رہتی ہے اور پڑھائی میں دل نہیں لگتا جس کے نتیجے میں تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔ ذہنی دباؤ، چڑچڑا پن اور بے چینی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

اخلاقی اور معاشرتی نقصانات:رات دیر تک جاگنے سے فرد کی شخصیت بھی متاثر ہوتی ہے، وہ سست اور کاہل نظر آتا ہے ،وقت کی قدر ختم ہو جاتی ہے، زندگی کے روز مرہ کے کام بھی متاثر ہوتے ہیں نیز رات دیر تک جاگنے سے انسان فرائض و واجبات میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔

طبعی ماہرین کے مطابق صحت متوازن رکھنے کے لیے چھ سے اٹھ گھنٹے کی نیند انتہائی ضروری ہے،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ سونے اور جاگنے کے اوقات پر غور کریں،مکمل نیند لیں،جب سونے لگیں تو فون کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز کریں،جلدی سونے کی عادت ڈالیں تاکہ جسم اور ذہن تندرست رہے نیز زندگی اور اس کے کاموں اور عبادات کو اچھے انداز سے سرانجام دے سکیں۔