رات دیر تک جاگنے کے نقصانات

ذہنی صحت پر اثر:

نیند کی کمی کی وجہ سے اپنی صحت پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن میں اضافہ ہوتا ہے۔

جسمانی صحت پر اثر:

موٹاپا:

نیند کی کمی موٹاپے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

ذیا بیطس:

گلو کوز میٹا بولزم اور انسولین پر منفی اثرات کی وجہ سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔

دل کی بیماریاں:

نیند کی کمی دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔

قوتِ مدافعت میں کمی:

جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

ارشادِ باری ہے:وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)(پ20،القصص:73)ترجمہ:کنز العرفان:اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور(دن میں ) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔

تفسیر صراط الجنان:ارشاد فرمایا کہ اے لوگو!اللہ پاک نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات میں آرام کرو، اپنے بدنوں کو راحت پہنچاؤ اور دن بھر کی محنت و مشقت سے ہونے والی تھکن دور کرو اور دن میں روزی تلاش کرو جو کہ اللہ پاک کا فضل ہے اورتم اپنی معاشی و کاروباری سرگرمیاں انجام دو اور تم پر یہ رحمت فرمانے کی حکمت یہ کہ تم اس کی وجہ سے اپنے اوپر اللہ پاک کا حق مانو،اس کی وحدانیّت کا اقرار کرو اورصرف اسی کی عبادت کر کے اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ۔( تفسیر طبری،10/98)

اللہ پاک نے رات آرام کے لیے بنائی ہے، لیکن لوگوں میں رات دیر تک جاگنے کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے۔سمجھاؤ تو کہتے ہیں کہ نیند ہی نہیں آتی۔ مسلمان کے لیے صبح چار بجے تو بستر چھوڑنے کا وقت ہو جاتا ہے،لیکن اب لوگ اس کے قریب سونے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ حدیثِ شریف میں تہجد میں اٹھ کر نماز پڑھنے کو نیک لوگوں کا طریقہ بتایا گیا ہے، اس وقت اللہ پاک آسمانِ دنیا سے صدا لگاتا ہے، ایک دو اور تین بجے سونے والا کیسے اس صدا پر لبیک کہہ سکتا ہے!روزانہ ان صداؤں کو اَن سُنا کرنا سخت محرومی کا باعث ہے۔اسی لیے رحمت ِعالَم ﷺ نے عشا کے بعد بلا وجہ جاگنے کو ناپسند اور منع فرمایا ہے۔ اگر عشا کے بعد جلدی سونے کی عادت بنا لی جائے تو تہجد اور فجر میں جاگنا آسان ہو جاتا ہے۔حضرت عمر عشا کے بعد بلا وجہ جاگنے والوں کی خبر لیا کرتے تھے۔بعض صحابہ سے ضرورت کے تحت عشا کے بعد جاگنا اور بات کرنا ثابت ہے، لیکن یہ ثبوتِ جواز کے لیے ہے،ان کا اصل معمول جلدی سونا اور جلدی اٹھنا ہی تھا۔

غور کیجیے کہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ قدرت نے تمام طبقاتِ انسان، بلکہ جانوروں تک کے لیے فطری طور پر نیند کا ایک وقت معین کر دیا اور اس وقت کو اندھیرا کر کے نیند کے لیے مناسب بنا دیا اور سب کی طبیعت و فطرت میں رکھ دیا کہ اسی وقت یعنی رات کو نیند آتی ہے، ورنہ جس طرح انسان اپنے کاروبار کے لیے اپنی اپنی طبیعت و سہولت کے لحاظ سے اوقات مقرر کرتا ہے اگر نیند بھی اسی طرح اس کے اختیار میں ہوتی اور ہر انسان اپنی نیند کا پروگرام مختلف اوقات میں بنایا کرتا، تو نہ سونے والوں کو نیند کی لذت و راحت ملتی، نہ جاگنے والوں کے کام کا نظم درست ہوتا، کیوں کہ انسان کی حاجتیں باہم ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں، اگر اوقات نیند کے مختلف ہوتے تو جاگنے والوں کے وہ کام خراب ہو جاتے جو سونے والوں سے متعلق ہیں اور سونے والوں کے وہ کام خراب ہو جاتے جن کا تعلق جاگنے والوں سے ہے۔اگر ہم رات سوئیں گی ہی نہیں تو سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ جلد اٹھ کر عبادت بھی نہ کرسکیں گی۔ہم ربِّ کریم کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دنیا میں آئی ہیں اور یہ بھول بیٹھی ہیں کہ ربِّ کریم کے فرامین کو نہ مان کر کیا اسے راضی کر بھی سکتی ہیں ؟

رات دیر تک جاگتے رہنا بہت سی نیکیوں سے محرومی کا سبب بن جاتا ہے ۔قربِ خدا نہ مل سکا تو اس کا الٹ ہوگا کہ ہم خسارے میں رہیں گی۔ہم نے تو اللہ کو راضی کرنا تھا لیکن یہ کیا

نہ جسمانی قوت رہی نہ ذہنی ،نہ فکری۔ ہم نے دماغ کو مفلوج کر دیا حتی کہ اللہ کریم کے احکام ماننے میں سستی کرنی لگیں۔ ایک مسلمان اگر شریعت کی پیروی اور اللہ کریم کو راضی نہ کرے گا تو کیا کرے گا ؟

لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ راتوں کو جاگ رہی ہیں۔آخر سبب کیا ہے؟ اگر معاذ اللہ گناہ کر رہی ہیں ،آنکھوں اور کانوں کی حفاظت نہیں کر رہیں تو رب کے غضب کو دعوت دے رہی ہیں۔اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوسکتا ہے !اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنے الفاظ میں اپنے جذبات کو اس طرح بیان کرتے ہیں :

دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے

شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

مسلمان رات کو وقت پر نہ سوئے تو صبح تک سوتے ہی رہ گئے ۔کیا نقصان ہوا؟فجر قضا ۔کیا نقصان ہوا ؟رب کی ناراضی۔کیا نقصان ہوا ؟حضور ﷺ کے قلبِ مبارک کو غمگین کر بیٹھیں۔اللہ ہمیں معاف فرمائے،ہم پر نظرِ رحمت عطا فرمائے،ہمیں سچی عاشقہ رسول بنائے ،احکامِ شریعت کی پابندی کرنے والی بنائے اور اپنے شب و روز عین احکامِ خداوندی کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین