سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت سید رضوان، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
سب کے سامنے
اصلاح کرنے سے انسان شرمندہ، ذلیل، بدگمان، خوفزدہ اور تعلقات میں دوری پیدا ہونے
لگتی ہے، جبکہ اکیلے میں محبت اور نرمی سے اصلاح کرنے کا اثر زیادہ مثبت اور دیرپا
ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس
نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب
کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)
افراد کی نشان
دہی کئے بغیر تذکرہ فرمانے کا انداز قرآن کریم میں بھی جابجا موجود ہے۔ جیسا کہ اللہ
پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا
یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآىٕمًاؕ- (پ3، اٰل عمران:
75) ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت
رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے۔
حضرت امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے
زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کر دیا۔ (حلیۃ
الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)
سب کے سامنے
کسی کو اس کا عیب بتانا اس انسان کو ذلیل محسوس کراتا ہے، اس کو ناگوار محسوس ہوتا
ہے اور وہ اصلاح کرنے والے کے بارے میں بدگمان ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے میری عیب
جوئی کی اگرچہ اس کی اصلاح کی نیت ہو۔
یہ عمل دلوں
میں بد گمانی کی وجہ سے نفرت اور دوری پیدا کرتا ہے اور انسان دوبارہ اس اصلاح
کرنے والے پاس بیٹھنا اپنی عزت نفس کی توہین سمجھتا ہے کہ یہ سب کے سامنے مجھے
ذلیل کرے گا۔
سب کے سامنے
کسی کی غلطی یا کمی پر سمجھانے سے وہ شخص شرمندہ ہو سکتا ہے اور وہ خود کو کمتر
محسوس کر سکتا ہے۔
سب کے سامنے
سخت تنقید کرنے سے اکثر تعلقات خراب ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ اصلاح کرنے والے کو
اپنا دشمن سمجھتا ہے۔
کچھ لوگ سب کے
سامنے سمجھائی جانے والی بات پر دھیان نہیں دے پاتے کیونکہ وہ خوفزدہ یا مضطرب ہوتے
ہیں۔
بار بار عوامی
اصلاح سے انسان کو یہ لگنے لگتا ہے کہ ہر غلطی پر شرمندہ ہونا پڑے گا، یہ احساس
مستقل خوف اور ذہنی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔
اصلاح کا مقصد
صرف سبق دینا ہوتا ہے، لیکن سب کے سامنے اصلاح کرنے سے وہ مقصد ضائع ہو جاتا ہے۔
کچھ لوگ سب کے
سامنے بات سنتے ہیں مگر دل سے قبول نہیں کرتے، جب کوئی سب کے سامنے اصلاح کرتا ہے
تو انسان اندر سے برا محسوس کرتا ہے اور بات قبول نہیں کرتا۔
جب سب کے
سامنے غلطی بتائی جائے تو انسان بعض اوقات جھوٹ بول کر اپنی حفاظت کرنے کی کوشش
کرتا ہے۔
چاہے رشتہ
کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، عوامی طور پر سمجھانا دلوں میں فاصلے پیدا کر دیتا ہے۔
بار بار عوامی
تنقید انسان کو احساس دلاتی ہے کہ وہ دوسروں سے کم تر ہے، جو ذہنی دباؤ کا سبب
بنتا ہے۔
مجمع میں
سمجھانے سے دوسرے لوگ بھی غلط انداز میں بات لے سکتے ہیں، جس سے مزید غلط فہمیاں
پیدا ہوتی ہیں۔
اکثر لوگ مجمع
میں بات ماننے کے بجائے ضد پر آ جاتے ہیں، چاہے وہ دل ہی دل میں غلطی مان بھی رہے
ہوں۔
جب کسی کو سب
کے سامنے سمجھایا جائے تو وہ دل میں بات رکھ لیتا ہے، اور آہستہ آہستہ اعتماد ختم
ہو جاتا ہے۔
انسان یہ بھول
جاتا ہے کہ اس نے کیا غلط کیا تھا، مگر یہ یاد رہتا ہے کہ اسے کیسے کہا گیا اس لئے
وہ بد گمانی کا شکار رہتا ہے کہ سمجھانے والا میرا دشمن ہے کیونکہ سب کے سامنے
مجھے سمجھایا گویا اس کا ارادہ مجھے ذلیل کرنا تھا۔
انسان زبان سے
تو کچھ نہیں کہتا، مگر دل میں مخالفت اور دوری پیدا ہو جاتی ہے۔
انسان کی عزت
اس کے دل کا دروازہ ہے، جو دروازہ توڑ کر داخل ہو، وہ بات منوا تو سکتا ہے، دل
نہیں جیت سکتا۔
سب کے سامنے
سمجھائے جانے کے بعد اسے لگتا ہے کہ اب ہر جگہ اس پر انگلی اٹھ سکتی ہے۔
Dawateislami