سب
کے سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت شکیل احمد، جامعۃ
المدینہ لطیف آباد
حضرت امام فخر
الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نصیحت وہ کلام ہے جو راہ دین میں ناروا اور
نامناسب باتوں سے روکے۔ (تفسیر کبیر،3/370)
وعظ و نصیحت
کی اہمیت اور افادیت کی حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ وعظ
و نصیحت حضرات انبیائے کرام کی عظیم سنت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پیارے
حبیب ﷺ کو حکم ارشاد فرمایا: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ
الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ
رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ
بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۲۵) (پ 14،
النحل: 125) ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور
ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی
راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو۔
پیارے آقا ﷺ نے
نصیحت کرنے والوں کو قابل رشک لوگوں سے تعبیر کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو انبیا نہ شہدا لیکن
بروز قیامت انبیا و شہدا ان کے مقام کو دیکھ کر رشک کریں گے، وہ لوگ نور کے منبروں
پر بلند ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتے
ہیں اور زمین پر لوگوں کو نصیحتیں کرتے چلتے ہیں۔ عرض کی گئی: وہ کس طرح لوگوں کو
اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی محبوب باتوں کا
حکم دیتے ہیں اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں، لہٰذا جب لوگ انکی اطاعت کرتے
ہیں تو اللہ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (صحابیات اور نصیحتوں کے مدنی پھول، ص 11)
امیر اہلسنّت
فرماتے ہیں کہ وعظ و نصیحت پر مبنی بیان کرنا مستحب ہے اگر نہیں کیا تو کچھ گناہ
نہیں لیکن کسی کو گناہ کرتے دیکھا اور روکنے پر قادر ہو تو امر بالمعروف و نہی عن
المنکر (یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی
سے منع کرنا) فرض ہے۔
امر بالمعروف
ونہی عن المنکر کے کئی آداب ہیں جن میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے ہرگز
نہ ٹوکا (سمجھایا) جائے کہ جیسا کہ سابقہ آیت میں بیان ہوا کہ اپنے
رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور اس طریقے پر جو سب سے بہتر
ہو۔
سب سے سامنے
سمجھانے کے کئی نقصانات ہوتے ہیں، مثلاً سب نے سامنے سمجھانے سے بات بےاثر ہو جاتی
ہے۔ جس کو سمجھایا جائے اس کی دل آزاری کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کی انا کو ٹھیس
پہنچتی ہے جس سے وہ گناہ پر ضدی ہو جاتا ہے اور اپنی غلطی پر مزید اڑ جاتا ہے۔
اسکو ایذا پہنچتی ہے۔ اس کے دل میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں۔ اسکی کی تذلیل ہوتی
ہے۔ سمجھانے والے کا لوگوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے سمجھانے
کا مقصد فوت ہو جاتا ہے کہ اس شخص کی توجہ اپنی اصلاح کی طرف سے اپنی شرمندگی کی
جانب ہو جاتی ہے۔ اسکی عیب جوئی ہوتی ہے۔
حضرت بی بی ام
درداء رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے سمجھایا تو اس نے
اسے زینت بخشی اور جس نے اسے لوگوں کے سامنے سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کو عیب
لگایا۔ (سمجھانے کا طریقہ، ص 1)
حضرت مسعر بن
کدام سے پوچھا گیا کہ آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں کہ جو آپ کو آپ کے عیبوں پر
خبردار کرے؟ فرمایا: اگر تنہائی میں نصیحت کرے تو پسند ہے اور اگر سر عام سمجھائے
تو نہیں۔ (مسلمان کی پردہ پوشی کے فضائل، ص 11)
نیکی کا حکم
دینے اور برائی سے منع کرنے والے کو چاہئے کہ ایسے اچھے انداز سے سمجھائے کہ جس سے
برائی کرنے والے کی تذلیل بھی نہ ہو، اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ اس برائی
(گناہ) سے باز آ جائے۔
Dawateislami