سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت محمد زمان،نواں پنڈ آرائیاں سیالکوٹ
کسی کو سب کے
سامنے سمجھانا بظاہر اصلاح کا طریقہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے کئی
نقصانات ہیں۔ اسلام بھی انسان کی عزت نفس کے تحفظ اور نرم رویّے کی تعلیم دیتا ہے۔
اگر کسی کو مجمع میں ڈانٹا جائے تو اس کی خودداری مجروح ہوتی ہے اور وہ شرمندگی
محسوس کرتا ہے۔
سب سے پہلے
قرآن مجید میں نرمی اور حکمت کے ساتھ نصیحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: اُدْعُ
اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (پ 14، النحل: 125) ترجمہ: اپنے رب کی
راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ نصیحت نرم اور اچھے انداز میں ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی جس سے کسی
کی دل آزاری ہو۔
دوسرا نقصان
یہ ہے کہ سب کے سامنے سمجھانے سے انسان کے دل میں ضد اور نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ
اپنی غلطی ماننے کے بجائے سمجھانے والے سے بدگمان ہو جاتا ہے۔ اسلام میں دلوں کو
جوڑنے کی تعلیم دی گئی ہے، نہ کہ توڑنے کی۔
نبی کریم ﷺ کا
طریقہ بھی یہی تھا کہ آپ کسی فرد کو براہ راست مجمع میں شرمندہ نہیں کرتے تھے بلکہ
عمومی انداز میں بات فرماتے تھے۔
مزید یہ کہ
دوسروں کے سامنے ڈانٹنے سے اعتماد کم ہو جاتا ہے، خاص طور پر بچوں اور طلبہ کا۔ وہ
خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور آئندہ غلطی چھپانے لگتے ہیں۔ اس طرح اصلاح کے بجائے بگاڑ
پیدا ہو سکتا ہے۔
قرآن میں
مسلمانوں کو ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنے کی تلقین کی گئی ہے: وَ لَا تَلْمِزُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ- (پ
26، الحجرات: 11) ترجمہ: ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور برے القاب سے نہ پکارو۔
یہ آیت واضح
کرتی ہے کہ دوسروں کی تذلیل یا تحقیر کرنا درست نہیں، چاہے وہ مذاق میں ہو یا
اصلاح کے نام پر۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ والدین، اساتذہ یا دوست اگر تنہائی میں
محبت سے سمجھائیں تو بات زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور عزت بھی برقرار رہتی ہے۔
عوامی سرزنش
دلوں میں دوری پیدا کر دیتی ہے۔ نفسیاتی طور پر بھی یہ عمل نقصان دہ ہے۔ بار بار
سب کے سامنے شرمندہ کیے جانے سے انسان احساس کمتری، مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار
ہو سکتا ہے۔ بعض افراد سماجی طور پر الگ تھلگ ہو جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا
اظہار نہیں کر پاتے۔
Dawateislami