سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت امجد علی، جامعۃ المدینہ سیدپور سیالکوٹ
اسلامی معاشرے
میں رہتے ہوئے جہاں مسلمان کو اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں دوسروں کی اصلاح کرنا
بھی ضروری ہے، سورۃ الذٰریٰت میں ارشاد ہوا: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى
تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز
الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔
اسی طرح سورۃ
آل عمران کی آیت نمبر 104 میں بھی ارشاد ہوا:
وَ لْتَكُنْ
مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ
وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ
عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) ترجمہ
کنز العرفان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور
اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
بیان کی گئی
آیات سے واضح ہوا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دوسروں کو سمجھانا چاہیے،ان کی
اصلاح کرنی چاہیے اور انہیں برائی سے منع کرنا چاہیے۔ لیکن دوسروں کو سمجھانے کے
بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ان اصولوں میں سے ایک اصول ملاحظہ کیجیے:
ایک اصول یہ
بھی ہے کہ وعظ و نصیحت (ناصح) یعنی نصیحت
کرنے والے اور (منصوح) یعنی جسے نصیحت کی جائے کے درمیان راز رہے، تنہائی میں نصیحت
کرنا نرمی کی ایک قسم ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے اپنے
بھائی کو علیحدگی میں نصیحت کی اس نے اس کی اصلاح کی اور اسے مزین کیا اور جس نے
اسے سب کے سامنے نصیحت کی اس نے ذلیل ورسوا کیا۔ (حلیۃ الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464)
دوسروں کے
سامنے سمجھانا،اصلاح کرنا منصوح کے لیے ذلت ورسوائی کا سبب بنتا ہے۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے مسلمان بھائی کے عیب ظاہر ہوتے ہیں۔ سب کے سامنے سمجھانے کا مقصد
مسلمان بھائی کے عیب کو ظاہر کرنا جبکہ تنہائی میں مسلمان بھائی کو سمجھانے کا
مقصد اس کی اصلاح کرنا ہے۔
جو دوسروں کے
عیبوں کو چھپاتا ہے اللہ پاک اس کے عیبوں کو چھپائے گا۔
ہم سب کی بھی
تو یہی خواہش ہے کہ بروز قیامت اللہ پاک ہمارے عیبوں کو چھپائے۔اس لیے ہمیں بھی
چاہیے کہ دوسروں کے عیبوں کو، دوسروں کی غلطیوں کو سب کے سامنے ظاہر نہ کریں بلکہ
اصلاح کی نیت سے تنہائی میں سمجھائیں۔
حضرت ام درداء
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار
دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)
حضرت امام
شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے کسی کی اکیلے میں اصلاح کی گویا اس نے اسے
زینت دی اور جس نے کسی کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے داغدار کیا۔ (حلیۃ
الاولیاء، 9/149، حدیث: 13464) سب کے سامنے سمجھانے سے (منصوح) یعنی جسے سمجھایا
جائے اس کی دل آزاری ہوتی ہے۔ جبکہ ہمارے پیارے مذہب میں کسی مسلمان کی دل آزاری
کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے فتنہ فساد پیدا ہوتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فتنہ سویا ہوا
ہوتا ہے اس پر اللہ پاک کی لعنت جو اس کو بیدار کرے۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے لوگوں میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے نااتفاقی پیدا ہوگی۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے دلوں میں محبت کی بجائے نفرت پیدا ہوتی ہے۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے جس کو سمجھایا جارہا ہوگا اس کی اصلاح تو نہیں ہوگی بلکہ اس کی رسوائی
ہوگی۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے مسلمان کی عزت خراب ہوتی ہے جبکہ حدیث مبارکہ میں واضح الفاظ میں موجود
ہیں کہ مسلمان کی مسلمان پر حرام ہے؛ اس کی جان، اس کا مال اور اس کی عزت۔
دوسروں کے
سامنے سمجھانے سے مسلمان ذلیل ورسوا ہوتا ہے۔
اس طرح ابو
داؤد کی حدیث مبارکہ میں ارشاد ہوا: بے شک سب سے بڑا سود یہ ہے کہ انسان اپنے
مسلمان بھائی کی عزت نفس کو بغیر کسی وجہ کے مجروح کرے۔
لہذا بحیثیت
مسلمان یہ درست نہیں کہ ہم کسی مسلمان کی عزت خراب کریں۔سمجھاتے ہوئے مسلمان کی
عزت کا لازمی طور پر خیال رکھا جائے۔
اگر آپ کی نیت
کسی کی اصلاح کرنے کی ہے تو اکیلے میں کریں اور اگر آپ کی نیت اسے رسوا کرنے کی ہے
تو آپ شور مچائیں گے۔
سب کے سامنے
سمجھانے سے مسلمان اپنی غلطی پر شرمندہ نہیں بلکہ دلیر ہوگا۔
لہذا ہمیں بھی
چاہیے کہ ان احادیث مبارکہ سے یہ مدنی پھول چن کر اپنے دل کے گلدستے میں سجا لیں
اور سمجھانے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ہمارے سمجھانے کے انداز سے کسی مسلمان بھائی کی
دل آزاری ہوگی یا اصلاح۔ میرے سمجھانے سے کسی مسلمان کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔
Dawateislami