دین کی دعوت دینا ایک بہت بڑی نیکی ہے، لیکن ہر کام کا ایک درست طریقہ اور ماحول ہوتا ہے۔ اگر کسی کو سب کے سامنے سمجھایا جائے تو بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ اسلام ہمیں حکمت، نرمی اور حالات کی رعایت کے ساتھ نصیحت کرنے کا حکم دیتا ہے دین کی بات کرنا بہت بڑی نیکی ہے لیکن اس کا طریقہ بھی درست ہونا چاہیے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے بعض اوقات عزت نفس کو ٹھیس، ضد، ریاکاری اور غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اسلام ہمیں حکمت، نرمی اور مناسب موقع کے ساتھ نصیحت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

خاص طور پر خواتین کو چاہیے کہ وہ پردہ، حیا اور مناسب ماحول کا خیال رکھتے ہوئے دین کا کام کریں تاکہ ان کی دعوت مؤثر اور بابرکت ہو۔ اگر کسی سے غلطی ہوجائے اور اس کی اصلاح کرنا ممکن ہو تو اس کی اصلاح کرنی چاہئے، لیکن اصلاح کرنے کا انداز ایسا ہو کہ سامنے والا اسے قبول بھی کرلے، بعض لوگوں کا اصلاح کرنے کا انداز بڑا عجیب ہوتا ہے، مثلاً جس کی اصلاح کرنی ہے اس سے پرسنل رابطہ کرکے اس کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کی غلطیوں کو سر عام بیان کریں گے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کریں گے، الگ سےاس کے ساتھ ملاقات کرکے بات کریں آپ چاہتے کیا ہیں؟ اصلاح کرنا یا صرف کسی کو ذلیل و رسوا کرنا اور اس کی عزت خراب کرنا؟

یقیناً ایک مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ بلا اجازت شرعی اپنے مسلمان بھائی کو رسوا کرے اور اس کی عزّت خراب کرے۔ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل و رسوا کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتاہے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

تبع تابعی بزرگ حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے مال سے کچھ لے لے پھر اس کی موت کے بعد اس سے دامن چھڑانا چاہے تو اس کے وارثوں کو وہ چیز دے دے ہمارے خیال میں یہ اس کا کفّارہ ہو جائے گا اور اگر تم میں سے کوئی کسی کی عزت خراب کر دے پھر اس کی موت کے بعد اس کا بدلہ دینا چاہے تو اس کے وارثوں اور تمام زمین والوں کے پاس جائے اور سب اسے معاف کر دیں تو پھر بھی معاف نہیں ہوگا، پس مؤمن کی عزت اس کے مال سے بڑھ کر ہے۔ جو تم سے کہا جاتاہے اسے سمجھو۔ (حلیۃ الاولیاء، 7/328، رقم: 10720)

ہمارے معاشرے میں کم وبیش سبھی کو اصلاح کی حاجت رہتی ہے جس طرح غلطیاں کرنے والوں میں کمی نہیں اسی طرح اصلاح کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں، اگرچہ انداز ہر ایک کا جداگانہ ہوتا ہے کچھ افراد تو ایسے بھی ہیں جو غلطیوں کے مرتکب (غلطیاں کرنے والے) کو سمجھانا بے فائدہ سمجھتے ہیں اور یوں کہتےہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بھائی! اسے سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں،جبکہ یہ قول واضح طور پر قرآن پاک کےخلاف ہے اللہ پاک کا پیار کلام تو یوں فرماتا ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)

اللہ پاک ہمىں درست طرىقے سے امت محبوب ﷺ کى اصلاح کرنے کى توفىق مرحمت فرمائىں۔ آمین