سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت ساجد علی،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
اصلاح اور
نصیحت کا بنیادی مقصد خیر خواہی، رہنمائی اور بہتری ہوتا ہے۔ انسان چونکہ خطا کا
پتلا ہے، اس لیے اس سے غلطیاں سرزد ہونا فطری امر ہے۔ ایسے میں اگر اس کی اصلاح
درست انداز میں کی جائے تو وہ نہ صرف اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے بلکہ آئندہ اس سے
بچنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اگر یہی نصیحت نامناسب طریقے سے، خاص طور پر سب کے
سامنے کی جائے تو اصلاح کے بجائے فساد کاسبب بن جاتی ہے، مشہور مقولہ ہے: نصیحت
اگر سب کے سامنے کی جائے تو وہ نصیحت نہیں، فضیحت بن جاتی ہے۔
نصیحت
اور فضیحت میں فرق: اس جملے میں کہ ”سب کے سامنے نصیحت کرنا فضیحت بن
جاتی ہے“ مقصد یہ ہے کہ جب آپ اکیلے میں کسی کو سمجھاتے ہیں تو وہ اصلاح (نصیحت)
ہے، لیکن جب آپ وہی بات چار لوگوں کے سامنے کرتے ہیں تو وہ سمجھانا نہیں رہتا بلکہ
وہ اس شخص کی بے عزتی (فضیحت) بن جاتی ہے۔
کسی کو سب کے
سامنے سمجھانا نفسیاتی سماجی اخلاقی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اسے چند پہلو
سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عزت
نفس کا مجروح ہونا: جب ہم کسی کی سب کے سامنے اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں
تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا اسکی تذلیل کی جارہی ہے اور وہ اصلاح کو قبول
نہیں کرتا کیونکہ انسان کی سب سے قیمتی متاع اسکی عزت نفس ہوتی ہے۔
احساس
کمتری: سب
کے سامنے سمجھانے کی صورت میں اسے اپنی غلطی پر ندامت زیادہ ہوگی جسکی وجہ سے رفتہ
رفتہ اپنی خود اعتمادی کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے
اور اسکی صلاحیتیں ابھرنے کے بجائے اسکی ذات میں ہی کھو جاتی ہیں۔
بعض
و کینہ: جب کسی کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا
جاتا ہے، تو اس کے دل میں نصیحت کرنے والے کے لیے محبت کے بجائے کینہ اور نفرت
پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ شخص ضدی ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات جان بوجھ کر وہی غلطی
دوبارہ کرتا ہے تاکہ یہ دکھا سکے کہ اسے کسی کی تنقید کی پروا نہیں ہے۔
شخصیت
کا متاثر ہونا: معاشرے
میں ہر انسان اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ جب اسے سب کے سامنے سمجھایا جاتا ہے،تو
تماشہ اور دیکھنے والے تماشائی بن جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اس شخص کی شخصیت متاثر
ہوتی ہے بلکہ لوگوں کو اس کا مذاق اڑانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک تعمیری گفتگو جو
تنہائی میں کی جا سکتی تھی، وہ محفل میں ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔
اصلاح
کا مقصد فوت ہو جانا: سمجھانے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگلا بندہ اپنی
اصلاح کر لے۔ لیکن جب آپ سب کے سامنے بولتے ہیں، تو مخاطب کی پوری توجہ اس بات پر
ہوتی ہے کہ لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے نہ کہ اس پر کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔ اس طرح
اصل پیغام کہیں کھو جاتا ہے اور صرف شرمندگی باقی رہ جاتی ہے۔
بہترین
اصلاح کے انداز: اصلاح
موقع محل کی مناسبت سے کی جائے، پہلے دیگر امور پر حوصلہ افزائی کی جائے پھر غلطی
سے آ گاہ کیا جائے، الفاظ کا چناؤ بہترین ہو ایسے الفاظ نہ ہوں جس سے اسکی دل شکنی
ہو، کوشش کریں کہ گفتگو مسئلے پر ہو نہ کہ شخصیت پر یعنی اسکی ذات کو برا بھلا نہ
کہیں، لہجہ نرم ہو کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے۔
Dawateislami