قرآن پاک میں فرمان رب العزت ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27، الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔ چنانچہ اس آیت مبارکہ کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور برے کاموں سے منع کرتے رہنا چاہئے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے سمجھایا جائے اس کے بارے میں امید ہوتی ہے کہ وہ برے کام چھوڑ کر نیک کام کرنے لگے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مومن کو سمجھانے سے نفع حاصل ہوتا ہے مگر بعض دفعہ ہمارے سمجھانے کا انداز ایسا ہوتا ہے جس کے سبب بندہ سنورنے کی جگہ بگڑ جاتا ہے، ایسے انداز میں سب سے زیادہ کی جانے والی غلطی سب کے سامنے سمجھانا ہے۔چنانچہ اسی متعلق حضرت بی بی ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے سمجھایا تو اس نے اسے زینت بخشی اور جس نے اسے علانیہ اور لوگوں کے سامنے سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کو عیب لگایا۔ (شعب الایمان، 6 / 112، حدیث: 7641)

سب کے سامنے سمجھانے کے بہت سے نقصانات ہوسکتے ہیں: مثلا

غلطی کرنے والا ضدی و ہٹ دھرم ہو سکتا ہے: سب کے سامنے اصلاح کرنے سے غلطی کرنے والے میں اصلاح قبول کرنے کی جگہ ضد اور مخالفت پیدا ہو سکتی ہے۔ نیز جب اس کی غلطی و گناہ کا علم سب کے سامنے اصلاح کرنے کے سبب سب کو ہو جاۓ گا تو وہ اس غلطی /گناہ میں بے باک ہو سکتا ہے۔

بغض و کینہ پیدا ہوتا ہے: کسی کی سب کے سامنے اصلاح کرنے غلطی بتانے سے، غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے جس کے سبب وہ دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور یوں اصلاح کرنے والے کا غلطی کرنے والے کے دل میں بغض و نفرت،کینہ پیدا ہو سکتا ہے۔

تعلقات کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے: جب کوئی سب کے سامنے غلطی بیان کرتا ہے تو غلطی کرنے والے کو تکلیف محسوس ہوتی ہے جس کے سبب آپس کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ یوں دوستی و خیرخواہی کے جذبات ختم ہو سکتے ہیں۔

سنوار کی جگہ بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے: سب کے سامنے اصلاح کرنے سے اسکے کام میں اصلاح نہیں ہو سکتی اگر سب کے سامنے سمجھائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ سامنے والا چپ ہوجائے لیکن دلی طور پر اپنی اصلاح کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔ نیز یہ بھی متوقع ہے کہ دشمنی کر بیٹھے یا اور عمل بگڑ جائے۔

دین سے دوری کا سبب بھی بن سکتا ہے: غلط طریقے سے سمجھانے کہ سب کے سامنے ہی شروع کر دی اصلاح کرنا ماحول و موقع نہ دیکھا اور اصلاح کرنے والا دیندار ہوا تو اس انداز کے سبب وہ دین سے بدظن ہو سکتا ہے۔

مومن کی صفت عیب پوشی ہے،اسے چاہیے کہ تنہائی میں اصلاح کرے اس نداز میں کہ دوسروں کو سامنے والے کا عیب بھی معلوم نہ ہو۔

اللہ پاک ہمیں درست انداز میں اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین