انسان خطا کا
پتلا ہے، اس سے غلطی ہو جانا فطری بات ہے۔ لیکن کسی کی اصلاح کرنے کا طریقہ بہت
اہم ہوتا ہے۔ اگر کسی کو سب کے سامنے ڈانٹا یا سمجھایا جائے تو اکثر فائدے کے
بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔ اسلام بھی ہمیں نرمی اور حکمت کے ساتھ نصیحت کرنے کا درس
دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حکمت اور اچھے انداز سے بات کرنے کی تعلیم
دی ہے۔
سب سے پہلا
نقصان یہ ہے کہ انسان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ جب کسی کو لوگوں کے سامنے تنقید
کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اسے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی غلطی ماننے کے
بجائے ضد پر آ سکتا ہے یا دل میں کینہ رکھ سکتا ہے۔ اس طرح اصلاح کے بجائے دلوں
میں دوری پیدا ہو جاتی ہے۔
دوسرا نقصان
یہ ہے کہ اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اگر استاد شاگرد کو یا والدین بچے کو سب کے سامنے
ڈانٹیں تو اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ آئندہ سوال پوچھنے یا رائے دینے سے گھبراتا
ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی کمزور ہو جاتی ہے اور وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔
تیسرا نقصان
تعلقات میں خرابی ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں یا ساتھیوں کے درمیان اگر کسی کو مجمع
میں برا بھلا کہا جائے تو تعلقات میں تلخی آ جاتی ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات
مستقل ناراضی کا سبب بن جاتی ہے۔ عزت دینا محبت کو بڑھاتا ہے جبکہ سب کے سامنے
سرزنش کرنا دلوں میں فاصلے پیدا کرتا ہے۔
چوتھا نقصان
یہ ہے کہ اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ جب انسان شرمندہ ہو جاتا ہے تو وہ دفاعی انداز
اختیار کر لیتا ہے۔ وہ اپنی صفائی پیش کرنے میں لگ جاتا ہے اور اصل غلطی پر غور
نہیں کر پاتا۔ اس طرح اصلاح کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔
Dawateislami