سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت شمشاد علی، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
سب کے سامنے
سمجھانا ایک ایسا عمل ہے جو اکثر لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ یہ نہ صرف انسان کی عزت
نفس کو مجروح کرتا ہے بلکہ اس کے دل میں نفرت اور غصہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے
ضروری ہے کہ سمجھانے کا عمل تنہائی میں کیا جائے تاکہ انسان کی عزت نفس محفوظ رہے
اور مقصد بھی حاصل ہو جائے۔
سب
کے سامنے سمجھانے کے نقصانات: سب کے سامنے سمجھانے سے انسان شرمندہ
ہو سکتا ہے اور اس کا اعتماد کم ہو سکتا ہے۔ اس سے انسان کے دل میں نفرت یا غصہ
پیدا ہو سکتا ہے۔ سمجھانے والے کو بدگمان سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے سمجھانے والے
کی عزت بھی کم ہو سکتی ہے۔ سب کے سامنے سمجھانے سے مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس سے
الٹا اثر ہو سکتا ہے۔ انسان سمجھنے کے بجائے مزید ضد پر آ سکتا ہے۔ سب کے سامنے
سمجھانے سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں اور انسان ایک دوسرے سے دور ہو سکتے ہیں۔
نصیحت
کیا ہے؟
جس شخص کو نصیحت کی جارہی ہو اس کو مکمل بھلائی اور خیر خواہی کے ارادے کو لفظ
نصیحت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبر نہ دوں جو نہ انبیاء علیہم
السلام ہیں نہ شہدا لیکن بروز قیامت انبیاء وشہدا ان کے مقام کو دیکھ کر رشک کریں
گے، وہ لوگ نور کے منبروں پر بلند ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پاک کے بندوں کو
اللہ کا محبوب بناتے بنا دیتے ہیں اور وہ زمین پر لوگوں کو نصیحتیں کرتے چلتے ہیں۔
عرض کی گئی: وہ کس طرح لوگوں کو اللہ کا محبوب بناتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ لوگوں
کو اللہ کی محبوب باتوں کا حکم دیتے ہیں اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہیں تو اللہ
پاک انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (شعب الایمان، 1/367، حدیث: 409)
امام شافعی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں نصیحت کی اس نے
اسے نصیحت کی اور زینت بخشی اور جس نے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رسوا کیا۔ (احیاء
العلوم،2/225)
امام غزالی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دوست کا حق یہ بھی ہے کہ اسے اچھی بات بتائی جائے اور
نصیحت کی جائے۔
قرآن
و حدیث سے دلائل:
ارشادِ باری
تعالیٰ ہے: وَ لَا تُجَادِلُوْۤا
اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﳓ (پ 21، العنکبوت:
46) ترجمہ: اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر اچھے طریقے سے۔
اسی طرح حضور
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی کو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے وہ اس کا بھلا کرتا
ہے اور جو اسے علانیہ نصیحت کرتا ہے وہ اس کا بھلا نہیں کرتا۔
ایک حدیث پاک
میں ہے: نرمی سے کام لو، کیونکہ نرمی کسی چیز میں نہیں ہوتی مگر اسے خوبصورت بنا
دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1073، حدیث:6602)
تنہائی
میں سمجھانے کے فوائد: تنہائی میں سمجھانے سے انسان کی عزت نفس محفوظ رہتی
ہے۔ تنہائی میں سمجھانے سے مقصد حاصل ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
Dawateislami